قلب انسان عجیب تحفہ ہے۔ اسی سے انسان لامحدود ذات مطلق کو پاتا اور اپناتا ہے۔ اور اسی سے جملہ فنون لطیفہ اور مختلف تمدن اور تہذیبیں جنم لیتی ہیں۔ یہ روح اور نفس کے امتزاج سے پیدا ہوا ہے۔
شعراءنے حیات کو بحر سے اور قلب کو گوہر سے تشبیہ دی ہے۔غالب فرماتے ہیں....
گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
اقبال کہتے ہیں....
گہر میں آب گہر کے سوا کچھ اور نہیں
زبور عجم میں فرماتے ہیں....
جز نالہ نمی دانم گویند غزل خوانم
این چیست کہ چوں شبنم برسینہ من ریزی
ترجمہ: میں آپکے ہجر میں سوائے نالہ و فغاں کے اور کچھ نہیں جانتا۔ لوگ مجھے غزل خواں کہتے ہیں۔ آگے عشق کی ایک کیفیت بیان کی ہے۔ فرماتے ہیں۔ یہ کیا ہے جو آپ شبنم کی مانند میرے قلب پر نازل فرماتے ہیں۔ سینہ کی طرف اشارہ ہے۔عشق الٰہی میں کبھی سمندروں کے جوش و اضطراب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور کبھی شبنم کا سکون اور ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔
پیام مشرق میں فرماتے ہیں۔
ایں شعر دلاویزے می خوانم و می رقصم
از عشق دل آساید با ایں ہمہ بے تابی
ترجمہ: میں یہ شعر دلآویز گاتا اور رقص کرتا ہوں کہ عشق کی ساری بےتابی کے باوجود اس سے دل سکون پاتا ہے۔
من اگرچہ تیرہ خاکم‘ دلکے ست برگ و سازم
بنظارہ جمالے چوستادہ دیدہ بازم
ترجمہ: اگر میرا بدن تاریک خاک سے بنا ہوا ہے‘ لیکن میرا اصل سرمایہ میرا دل ہے‘ اس کی مدد سے میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے جمال کا نظارہ کرتا ہوں۔ میرے دل کی آنکھ ستارے کی مانند ہمیشہ کھلی رہتی ہے۔
نشیمن ہر دو را آب و گل‘ لیکن چہ راز است ایں
خرد را صحبت گل خوشتر آید‘ دل کم آمیز است
ترجمہ: عقل و دل دونوں کا نشیمن خاکی بدن ہے مگر یہ عجیب راز ہے کہ عقل کو مٹی کی صحبت پسند آتی ہے اور دل جہاں آب و گل سے دور اور عشق الٰہی میں مخمور رہتا ہے۔
عرش کا ہے‘ کبھی کعبے کا ہے دھوکا اس پر
کس کی منزل ہے الٰہی! میرا کاشانہ دل
ہمہ پارہ و لم راز سرور او نصیبے
غم خود چساں نہادی بہ دل ہزار پارہ
ترجمہ: آپ نے میرے دل ہزار پارہ میں اس طرح سے اپنا غم سمو دیا ہے کہ اسکے ہر ٹکڑے میں محبت کا سرور موجزن ہے۔