سورہ ہودؑ....(۳)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 26 دسمبر ، 2011
آیہ 11میں فرمایا کہ سب لوگ ایسے نہیں جو مشکلات میں مایوس اور ناشکرے ہو جائیں اور اچھے حالات میں اترانے اور شیخی بگھارنے لگیں۔
”11 مگر وہ جنہوں نے صبر کیا اور نیک اعمال میں لگے رہے۔ وہی ہیں جن کیلئے (انکی کوتاہیوں کی) بخشش اور (انکے نیک اعمال کا)اجر کبیر ہے“۔
ایسے لوگ ہر حالت میں صبر سے کام لیتے ہیں اور مستقل مزاجی سے نیک اعمال میں لگے رہتے ہیں۔
قرآن پاک کا نازل کرنا بھی رحمت کے سبب سے ہے حضور کی بعثت بھی رحمت کے سبب سے ہے لیکن کفار اس رحمت سے مستفید ہونے کی بجائے‘ کج بحثی سے اس پر اعتراضات کرتے رہے۔ اگلی آیت میں حضور کی دلجوئی فرمائی کہ آپ ایسے اعتراضات سے دل تنگ نہ ہوں۔
”12.... تو کیا آپ اس میں سے جو آپ پر وحی کیا جاتا ہے‘ کچھ چھوڑ دینگے اور آپ کا جی اس سے تنگ ہوتا ہے‘ کیونکہ وہ کہتے ہیں: اس پر خزانہ کیوں نہیں اتر آیا اسکے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا“۔
”بلاشبہ آپ صرف (برے اعمال کے برے نتائج سے) ڈرانے والے ہیںاور اللہ (تعالیٰ) ہر شے کا ذمہ دار ہے“۔
بعد میں خزانے بھی ہاتھ لگے۔ فرشتے بھی ساتھ ہو کر لڑے لیکن پہلے اکیلے‘ بے سروسامانی کی حالت میں‘ کام کا آغاز کرنا پڑا۔ ورنہ یہی لوگ کہتے انکے پاس خزانہ ہے یہ اسلام کے احکام بجا لا سکتے ہیں۔ ہم غریب لوگ کیسے ان احکام پر چل سکتے ہیں۔
”13.... کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ اسے (اپنے جی میں) گھڑ لایا ہے۔ ان سے کہیں: (اگر ایسا ہے) تو تم اس قسم کی دس سورتیں ہی بنا لاﺅ اوراللہ(تعالیٰ) کے سوائے جسے (اپنی مدد کیلئے) پکارسکو‘ پکار لو۔ اگر تم (اپنے اس دعوےٰ میں ) سچے ہو“۔
”14.... پھر اگر وہ تمہارا چیلنج قبول نہ کرسکیں‘ تو (ان کفار سے کہہ دیں): تم جان لو کہ یہ (قرآن پاک) اللہ (تعالیٰ) ہی کے علم سے نازل ہوا (یعنی اس میں جو کچھ ہے‘ وہ علم الٰہی پر مبنی ہے) اور یہ کہ اسکے سوائے اور کوئی معبود نہیں۔ پھر کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟“
آگے فرمایا کہ یہ لوگ دنیوی جاہ و دولت کے پیچھے پڑے ہیں اور انکے پاس دولت کا ہونا کوئی عجیب بات نہیں۔ جو بھی اس کیلئے کوشش کرتا ہے‘ ہم اسے اسکی کوشش کے نتائج سے بہرہ مند کرتے ہیں مگر آخرت میں انہیں کچھ نہیں ملتا۔ ”15.... جو کوئی دنیوی زندگی اور اسکی آرائش کا طالب ہے‘ ہم اس (دنیا) میں انہیں انکے اعمال کا پورا (نتیجہ) دے دیتے ہیں اور ان کیلئے اس میں کچھ کمی نہیں کی جاتی“۔
”16.... (مگر) یہی وہ لوگ ہیں جن کیلئے آخرت میں (جہنم کی) آگ کے سوائے اور کچھ نہیں اور اکارت گیا جو انہوں نے دنیا میں بنایا تھا اور ملیا میٹ ہوا جو کچھ وہ کرتے تھے۔“
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں