تقویٰ اور قرب الٰہی
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 26 اگست ، 2010
قرآن پاک میں روزوں کے بارہ میں جو رکوع ہے، اس کا آغاز اس ارشاد سے ہے ’’اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔‘‘ اسکے بعد روزوں کے بارے میں احکامات ہیں‘ آخری سے پہلی آیت کے آخر میں پھر ارشاد ہے۔ اس طرح اﷲ اپنی آیات لوگوں کیلئے وضاحت سے بیان فرماتے ہیں، تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ یہ قرآن پاک کا خاص انداز ہے کہ جہاں سے بات شروع کرتے ہیں وہیں پر اس کا اختتام فرماتے ہیں۔ گویا روزوں کا مقصد یہ ہے کہ بندہ کے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ یہ ہے کہ بندہ اﷲ تعالیٰ کے خوف کے باعث برائی سے بچے۔ (یاد رہے کہ خوف صرف عذاب ہی کا نہیں ہوتا، خوف محبوب کی ناخوشنودی کا بھی ہوتا ہے)۔ ظاہر ہے کہ جب تک اﷲ تعالیٰ کے قرب اور موجودگی کا احساس نہ ہو اور ساتھ ہی اپنے اوپر ضبط نہ ہو، انسان برائی سے بچ نہیں سکتا۔ اﷲ تعالیٰ پاس ہیں اور دیکھ رہے ہیں‘ انکے سامنے برائی کیسے کروں۔
رمضان کے روزوں سے یہ دونوں چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس رکوع کے درمیان میں ایک آیت ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے ’’اور جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں، تو (ان سے کہیں کہ) میں قریب ہی ہوں۔‘‘ بظاہر اس آیہ پاک کا روزہ کے موضوع سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا، لیکن دراصل بلیغ انداز میں اس طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ روزوں سے اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائیگا۔ یوں تو اﷲ تعالیٰ ہر ایک کی شہ رگ سے بھی زیادہ اسکے قریب ہیں، مگر بالعموم ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ سورہ النور کی مشہور آیہ نور میں اپنے نور کی مثال یوں دی جیسے طاقچہ کے اندر چراغ ہو اور چراغ شیشے کی قندیل میں ہو۔ یہ چراغ ،کبھی نہ بجھنے والا ربانی چراغ ہے‘ اسکے اوپر شیشے کی قندیل انسانی قلب ہے۔ اس چراغ کا تیل اﷲ تعالیٰ کی محبت اور اﷲ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ اگر چراغ میں تیل وافر ہو، اور اسکے اوپر کی قندیل صاف و شفاف ہو، تو روشنی دوبالا ہو کر باہر آتی ہے اور نور علٰی نور کا سماں بندھ جاتا ہے۔
رمضان میں یہی کیفیت ہوتی ہے۔ عبادت و تلاوت زیادہ ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی نظر رحمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اس لئے روح کی روشنی میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے‘ دوسری طرف نفسانی خواہشات ضبط کے تحت آجاتی ہیں۔ روزہ کے دوران صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے پر ضبط سے طبیعت کے اندر لطافت اور ایک عام ضبط پیدا ہو جاتا ہے اور یہ ضبط باہر سے ٹھونسا ہوا نہیں ہوتا، بلکہ یہ اندر کا ضبط ہوتا ہے، جو اصل ضبط ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں