تازہ ترین:

فریاد مظلوماں

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 25 جنوری ، 2010
قرآن پاک کے چھٹے پارے کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے۔
’’اللہ (تعالیٰ) کو پسند نہیں کہ کوئی کسی کو برملا برا کہے‘ مگر وہ جس پر ظلم کیا گیا ہو‘‘ (4 :147)
اللہ تعالیٰ نے مظلوم کو یہ حق دیا ہے کہ وہ علی الاعلان شکایت کر سکتا ہے‘ مگر ظالم حکمران اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے مظلوم سے اس کا یہ حق بھی چھین لیتے ہیں۔ ملک میں ہر طرف قتل و غارت اور بدامنی کی سی کیفیت رہتی ہے۔ کسی کی عزت و آبرو اور جان و مال محفوظ نہیںرہتے۔ ایک تو یہ لوگ اپنی ذمہ داری سے غفلت برتتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ مظلوموں کو بولنے بھی نہیں دیتے۔
انتظام بھی نہ کرنا اور کسی کو کہنے بھی نہیں دینا کہ بدانتظامی ہے‘ تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ لوگوں کے سینوں میں اندر ہی اندر نفرت‘ غصہ اور انتقام کی آگ بھڑکتی رہے گی اور پھر ایک دن یہ آتش فشاں پہاڑ پھٹے گا اور اس کا لاوا سارے خس و خاشاک کو بہا کے لے جائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے کیوں نہیں۔
قرآن پاک میں اس شخص کیلئے جو کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے‘ جہنم کی سزا ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ کیا بے گناہوں کے یہ سب قتل جو حکومت کی آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہیں‘ قتل عمد کی تعریف میں نہیں آتے؟
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے کسی ایک شخص کو قتل کیا‘ اس نے گویا ساری نوع انسان کو قتل کیا جو کچھ ہمارے ملک میں ہو رہا ہے کیا یہ نوع انسان کا قتل نہیں؟
کیا وہ احکم الحاکمین جس کی حکومت ہمیشہ سے قائم و دائم ہے اور ہمیشہ قائم و دائم رہے گی‘ ان عارضی حکمرانوں سے باز پرس نہیں فرمائے گا؟ اس علیم و خبیر کے سامنے کوئی عذر لنگ نہیں چلے گی۔ وہاں یہ کیا جواب دیں گے…؎
ستم کی داستاں‘ کشتہ دلوں کا ماجرا کہئے
جو زیر لب نہ کہتے تھے‘ وہ سب کچھ برملا کہئے
لگی ہے حرف ناگفتہ پہ اب تعزیر بسم اللہ!
سر مقتل چلو بے زحمت تقصیر بسم اللہ!
ہر اک جانب مچا کہرام دار و گیر بسم اللہ!
گلی کوچوں میں بکھری شورش زنجیر بسم اللہ!
جہاں اچھے حکمرانوں کیلئے اجر عظیم ہے‘ وہاں نااہل حکمرانوں کیلئے سخت سزا بھی ہے۔ حکومت کسی کے پاس نہ ہمیشہ رہی ہے نہ اب رہے گی۔ موت بھی ہر ایک کو آنی ہے۔ ہر ایک سے اس کے اعمال کی بازپرس بھی ہو گی۔ قبر ہی جنت کا ٹکڑا یا جہنم کا گڑھا بن جاتی ہے۔ یہ سارے حالات ہم سب کو پیش آنے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter