قرآن پاک کے آداب

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 25 اگست ، 2010
قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام اور پیغام ہے۔ اللہ قرآن پاک کے آداب نے اسے نور بھی فرمایا ہے اور کتاب بھی‘ بالکل اسی طرح جیسے حضور نور بھی ہیں اور بشر بھی۔ پیغام اور پیغامبر کا ادب اور احترام دراصل پیغام بھیجنے والے کا ادب و احترام ہے۔ گویا قرآن پاک اور جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پاک کا ادب و احترام دراصل حق تعالیٰ کا ادب و احترام ہے اور قرآن پاک کی بے ادبی اور حضورؐ کی شان میں گستاخی حق تعالٰی کی جناب میں گستاخی ہے۔ قرآن پاک کے آداب میں سے پہلا ادب یہ ہے کہ اسے وہ شخص ہاتھ نہ لگائے جو پاک صاف نہ ہو۔ فرمایا ’’نہ ہاتھ لگائیں اسے مگر پاک صاف (مطہرون) دوسرا ادب یہ ہے کہ تلاوت سے پہلے شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے تاکہ اسکے الفاظ کی تلاوت یا مطلب سمجھنے میں شیطان وسوسہ اندازی نہ کر سکے۔ تیسرا ادب یہ ہے کہ تلاوت کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے نام (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) سے کرے۔ چوتھا ادب یہ ہے کہ تلاوت آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر کرے۔ اس طرح تلاوت نہ کرے کہ الفاظ پورے ادا نہ ہوں بہت زیادہ چِل کر پڑھنا بھی ادب کے منافی ہے۔ ختم قرآن پاک کے موقع پر اسے جلدی ختم کرنے کیلئے ایک صفحہ ایک شخص کا پڑھنا اور دوسرا دوسرے کا‘ ادب کے منافی ہے۔ اس سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ آپ اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں اسی طرح سیپارہ کے صفحات موڑ کے پکڑنے میں بھی بے ادبی پائی جاتی ہے۔ آیات سجدہ اگر باآواز بلند پڑھی جائیں‘ تو پڑھنے والے کے علاوہ سننے والوں پر بھی سجدہ لازم ہے۔ قرآن پاک پڑھا جا رہا ہو تو اس کے پاس شور مچانا گناہ ہے۔ قرآن پاک کی طرف پیٹھ کرنا بھی بے ادبی ہے۔ آیات قرآن پاک والے کاغذات یا ان کے ٹکڑے گندی جگہ پھینکنا یا انکے اوپر بیٹھنا سخت بے ادبی اور گستاخی ہے۔ سورۃ الرعد کی آیت ۸۲ میں فرمایا کہ جو ایمان لائے انکے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے چین پاتے ہیں۔ یہاں ذکر سے مراد قرآن پاک ہے جیسے مشہور معروف آیت میں ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ ’’بیشک ہم نے ذکر نازل کیا اور بیشک ہم ہی اسکے محافظ ہیں۔‘‘ گویا قرآن پاک کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ اس سے قلوب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور جو اس پر عمل کرتا ہے اس کیلئے اس دنیا میں بھی خوشحالی ہے‘ اور آخرت میں بھی اس کیلئے اچھا ٹھکانا ہے‘ چنانچہ آگے اسی سورہ کی آیت ۱۳ میں فرمایا ’’اگر قرآن پاک سے پہاڑ اپنی جگہ سے دوسری جگہ لے جائے جاتے یا اسکے ذریعے زمین کی مسافتیں جلد طے ہو جاتیں یا اسکے ذریعے مردے بولنے لگتے (تو بھی وہ اس پر ایمان نہ لاتے) آگے فرمایا ’’لیکن ہر امر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے‘‘۔ سابقہ آیت میں فرما چکے ہیں کہ جو انکی طرف رجوع کرتا ہے‘ وہ ہدایت پاتا ہے۔ گویا جو انکی طرف رجوع نہیں کرتا‘ وہ ہدایت سے محروم رہتا ہے۔‘‘
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter