حضرت ابراہیم ؑ .... (۳)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 24 نومبر ، 2009
حضرت ابراہیم ؑ نے پہلے اپنے شہر کے لوگوں پر کواکب پرستی کی نامعقولیت ثابت کی مگر ان پر کچھ اثر نہ ہوا اب انہوں نے ایک تدبیر سوچی جس سے لوگوں پر بت پرستی کی حماقت واضح ہو جائے تجویز جرات مندانہ تھی مگر اس میں جان کا خطرہ بھی تھا۔ بہرحال انہوںنے اولوالعزم کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی تجویز پر عمل کیا۔ ایک روز پھر سارے شہر والے تہوار منانے کے لئے چند دن شہر سے باہر گزارنے کے لئے تیار ہوئے تو ابراہیم ؑنے ستارے دیکھ کر کہا کہ میں بیمار ہوں اس میں ایک لطیف طنز بھی پنہاں تھی کہ مجھے تو معلوم نہیں کہ میں بیمار ہوں مگر ستارے کہتے ہیں کہ تم بیمار ہو اس لئےمیں تمہارے ساتھ باہر نہیں جا سکتا۔
جب شہر خالی ہوگیا تو ابراہیم ؑنے تیر اٹھایا اور بڑے بت خانہ میں جا گھسے بتوں کے سامنے انواع واقسام کے کھانے پڑے رکھے تھے کہنے لگے کھاتے کیوں نہیں پھر تیر اٹھایا اور انہیں توڑنا شروع کر دیا مگر بڑے بت کو سلامت رہنے دیا لوگ خوش خوش گھروں کو واپس آئے تو ان میں سے بعض اظہار عقیدت کے لئے بت خانہ میں گئے وہاں کا منظر دیکھ کر ان پر سکتہ سا طاری ہوگیا کہنے لگے کس نے ہمارے معبودوں کا یہ حال کیا ہے؟ کسی نے کہا وہ ایک نوجوان ابراہیم ؑہے وہ ان کے خلاف باتیں کرتا رہتا ہے اسے پوچھنا چاہئے ابراہیم ؑکو بلایا گیا اور پوچھا گیا کیاتم نے ہمارے خداﺅں کا یہ حال کیا ہے؟ ابراہیم ؑنے کہا شایداس بڑے بت نے یہ کام کیا ہو یا انہی بتوں سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں ابراہیم ؑنے اپنے جرات مندانہ اقدام سے ان پر یہ ثابت کر دیا کہ بس بے کار ہیںنہ یہ چھوٹے بت اپنے آپ کو بچا سکے نہ اب بتا سکتے ہیں کہ کس نے انہیں توڑا پھوڑا نہ یہ بڑا بت انہیں بچا سکا نہ اب بتا سکتا ہے ایک لمحہ کےلئے لوگوں کے دماغ میں سچائی کوند گئی ان میں سے بعض نے کہہ دیا کہ تم ہی ظالموں میں سے ہو(جو اسی بیکار چیزوں کی پرستش کرتے ہو)
لیکن دوسرے لمحے وہ پھر الٹ گئے کہنے لگے تو جانتا ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں ابراہیم ؑنے کہا تف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر جنہیں تم سچے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پوجتے ہو جواب بن نہ پڑا۔ تو انہوں نے تعصب کو ہوا دی اور کہا اپنے معبودوں کا بدلہ لو اگر لے سکتے ہو(اگر تم میں غیرت ہے) تعصب اندھا ہوتا ہے جہاں تعصب بھڑک اٹھے وہاں معقولیت کا کیا کام سب نے شور مچا دیا اسے زندہ جلا دو۔
اس ملک کا بادشاہ ہی اپنے آپ کو خدا سمجھتا تھا ابراہیم ؑکو اس کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے پوچھا(تم مجھے خدا نہیں مانتے) تمہارا رب کون ہے ابراہیم ؑنے فرمایا میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں زندگی وموت ہے وہ کہنے لگا میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں کہتے ہیں بطور ثبوت اس نے ایک موت کے سزا یافتہ کوچھوڑ دیا اور ایک بے گناہ کو مار دیا ابراہیم ؑبحث میں نہ پڑے اپنی بات نئے انداز سے پیش کر دی فرمایا میرا رب سورج کومشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال دکھا بادشاہ لاجواب ہوگیا مگر ایمان نہ لایا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں