مقصد ذرائع .... (۲)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 24 مارچ ، 2011
ذرائع کو مقصد بنا لینا اور مقصد کو بھول جانا‘ انسان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ پیغمبر آئے کہ لوگوں کو اﷲ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا راستہ بتائیں۔ کئی لوگوں نے پیغمبروں ہی کی عبادت شروع کر دی۔ قرآن پاک میں ہے کہ یہود نے اپنے عالموں اور روحانی پیشوا¶ں کو خدا بنا لیا (حالانکہ وہ صرف اﷲ تعالیٰ کا راستہ بتانے والے تھے) دنیا اسلئے ہے کہ اسکے ذریعے اپنی آخرت بہتر بنائی جائے لیکن ہم میں سے بیشتر نے دنیا ہی کو اپنا مقصود بنا لیا ہے۔ دنیا کا مال و متاع اس لئے ہے کہ اسکے ذریعے اﷲ کا قرب حاصل کیا جائے، مگر ہم دولت ہی کو اللہ سمجھنے لگے ہیں اور مال کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ قرآن پاک نے اس طرز عمل کی سختی سے مذمت کی ہے کیونکہ یہ سب برائیوں کی جڑ ہے فرمایا....
” جو لوگ سونا اور چاندی خزانہ جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں عذاب دردناک کی خوشخبری دو، ایک روز اس سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائےگا اور اس سے انکی پیشانیوں‘ پہلو اور کمریں داغی جائیں گی۔ (پھر ان سے کہا جائےگا) یہ ہے وہ (مال) جو تم نے اپنے لئے جمع کر کے رکھا تھا‘ اب اس جمع کئے ہوئے کا مزہ چکھو۔“
”ہر عیب چیں‘ غیبت گو کےلئے برا انجام ہے‘ جس نے مال جمع کیا اور اسے گنتا رہا وہ گمان کرتا رہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کےساتھ رہے گا‘ ہر گز نہیں‘ اسے یقینا ً حطمہ میں ڈالا جائےگا اور تو کیا جانے حطمہ کیا ہے وہ اﷲ (تعالیٰ) کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں تک چڑھ آتی ہے۔ “
”یقیناً وہ شعلوں والی آگ ہے، جو چہرے کی کھال ادھیڑ دیتی ہے۔وہ اس شخص کو جلاتی ہے جس نے (اﷲ تعالیٰ کے احکام سے) پیٹھ پھیری اور مونہہ موڑا۔ اور مال جمع کیا اور پھر اسے بند کر کے رکھا۔“
شریعت کے معاملہ میں بھی ہم اسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ شریعت، زندگی کا ایسا پروگرام مہیا کرتی ہے، جس سے ہم اﷲ تعالیٰ کے سپاہی بن جائیں اور برائی اور باطل قوتوں کےخلاف لڑیں مگر ہم میں سے بیشتر نے اس مقصد کو بھلا دیا ہے ہم نہی عن المنکر سے گریز کرتے ہیں‘ جہاد کو مقصد حیات نہیں سمجھتے‘ اس سے کتراتے ہیں ‘ مبادا ہم سے مال و دولت چھن جائے ساری عمر نمازیں پڑھتے ہیں‘ مگر ہم میں ڈسپلن پیدا نہیں ہوتا، روزے رکھتے ہیں مگر اندرونی ضبط سے کورے رہتے ہیں، زکوةٰ دیتے ہیں مگر مال کی محبت میں بدستور پھنسے رہتے ہیں‘ حج کرتے ہیں، مگر لسانی اور علاقائی تعصبات سے اوپر نہیں اٹھتے۔ اگر ایک سپاہی پریڈ اچھی کرے‘ وردی بھی ٹھیک ٹھاک رکھے مگر جنگ کے موقع پر میدان جنگ کا رخ نہ کرے۔ کیا آپ اسے اچھا سپاہی کہیں گے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو نمازیں باقاعدگی سے پڑھتے ہیں‘ لباس کا بہت احترام ہیں‘ مگر برائی کا مقابلہ نہیں کرتے، جہاد سے گھبراتے اور بھاگ جاتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں