حضرت ابراہیم ؑ .... (۲)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 23 نومبر ، 2009
آج سے کم و بیش چار ہزار برس قبل عراق کے شہر اُرنامی میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔ قرآن پاک کےمطابق انکے والد آزر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ شہر اُرنامی دریائے دجلہ و فرات کے دہانہ کے قریب واقعہ تھا اور اس شہر کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں۔یہ شہر جس بادشاہ کی راجدھانی تھا، وہ اپنے آپکو خدا کہتا تھا۔ وہاں کے لوگ بتوں اور اجرام سمادی کی پرستش کرتے تھے۔ آزر غالباً بڑے بت خانے کے سرکاری پروہت تھے۔ انہیں اپنے معاشرے میں دولت اور تقدس دونوں چیزیں حاصل تھیں‘ پیغمبرحضرات عالم ارواح ہی میں پیغمبر تھے۔ قرآن پاک میں ان سے وہاں دو عہد لینے کا مذکور ہے۔ ابراہیم بچپن ہی میں بت پرستی سے متنفر تھے۔ انہوں نے تبلیغ کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ سورہ الانعام میں ارشاد ہے ”اور جب ابراہیمؑ نے اپنے باپ آزر سے کہا؟ کیا تم بتوں کو معبود بناتے ہو؟ میں تجھے اور تیری قوم کو واضح گمراہی میں دیکھتا ہوں“ معمولی بات نہ تھی۔ اپنے گھر والوں اور ساری قوم کےخلاف تن تنہا اٹھ کھڑے ہونا اور انکے اعتقادات کو برملا چیلنج کرنا مگر پیغمبر یہی کرتے ہیں اور عالم ارواح میں ان سے اسی بات کا عہد لیا گیا تھا۔ پیغمبر اپنی بات جرات سے کہتے ہیں مگر تبلیغ میں حکمت دوانائی کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں‘ بحث میں نہیں پڑتے اگر ایک انداز سے پیش کی گئی بات سے مخاطب متاثر نہ ہو، تو وہی بات نئے انداز سے پیش کر دیتے ہیں۔ قرآن پاک میں حضرت ابراہیمؑ کی تبلیغ کے تین واقعات بیان ہوئے ہیں۔ پہلے واقعہ میں انہوں نے قوم کو کواکب پرستی سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ دوسرے میں انہیں عملاً بت پرستی کی نامعقولیت سے آگاہ کیا۔ تیسرے میں انہوں نے بادشاہ سے اس بارے میں بات کی کہ وہ خدا نہیں۔ پہلا واقعہ سورہ الانعام میں مذکور ہے۔ غالباً سب لوگ کوئی تہوار منانے کےلئے شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ نے وہاں کھلے میدان میں موجود مجمع سے کواکب پرستی کے متعلق بات کی لیکن کس خوبصورت انداز سے! ” پھر جب اس پر رات چھا گئی اس نے ستارہ دیکھا(زہرہ ستارہ )“۔ ”ابراہیمؑ نے(لوگوں کو سنا کر)“ کہا یہ میرا رب ہے۔“ پھر جب وہ غروب ہوگیا، تو کہا میں غروب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔
اشارةً فرما دیا کہ یہ تو کسی اور کے حکم کے تابع معلوم ہوتا ہے۔ یہ کیسے خدا ہو سکتا ہے۔ پھر جب ابراہیمؑ نے چاند کو طلوع ہوتے دیکھا،(تو) کہا یہ میرا رب ہے۔“ ”پھر جب وہ غروب ہوگیا، تو کہا اگر میرا رب میری رہنمائی نہیں فرمائےگا، تو میں گمراہوں میں سے ہو جاﺅنگا۔“ پھر اس نے سورج کو طلوع ہوتے دیکھا، (تو) کہا؟ یہ میرا رب ہے۔ یہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ (بھی) غروب ہوگیا تو کہا اے قوم! تم جو شرک کرتے ہو، میں اس سے لاتعلق ہوں“۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں