مقصد ذرائع .... (۱)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 22 مارچ ، 2011
دنیا میں تین قسم کی سوچ رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک وہ جو اس خیال کے ہیں کہ مقصد بلند ہو اور اسکے حصول کے ذرائع بھی پاکیزہ ہوں یہی اسلامی نظریہ ہے۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اچھے مقاصد کےلئے برے ذرائع بھی استعمال کر لینے چاہیں۔ یہ سوچ زیادہ تر کمیونسٹوں، انارکسٹوں وغیرہ نے پھیلائی ہے۔ ہوائی جہازوں کا اغوائ، بسوں میں دھماکے، ریل گاڑیوں کی تباہی یہ سب اسی نظریے کے نتائج ہیں۔ زیادہ تر معصوم اور بے گناہ لوگ انکے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔
تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کی زندگی کا نہ کوئی مقصد ہے، نہ وہ ذرائع کے بارے میں سوچتے ہیں یہ لوگ اپنی حیوانی جبلتوں کے غلام ہیں اور حیوانات ہی کی طرح سوچ سے عاری ہیں۔ عیش وعشرت ان کا مقصد ہے اس کےلئے دولت چاہے جہاں سے مل جائے جیسے مل جائے، بس مل جائے، اقتدار سے بھی ان کا مقصد یہی ہے کہ اس طرح دولت حاصل کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔ اسلام کی رو سے انسانی زندگی کا مقصد اﷲ تعالیٰ کی صفات کا رنگ منعکس کرنا اور اس طرح اپنی استعداد کے مطابق اپنی شخصیت کی تعمیر وتکمیل کرنا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے.... ” اور تمہارا منتہائے مقصود تمہارا رب ہے۔ “ صراط مستقیم بھی وہی ہے جو سیدھا اﷲ تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔ (سورہ النجم42)
ارشاد ہے ”یقیناً میرا رب صراط مستقیم پر ہے“ (سورہ ہود56) اﷲ کے معنی معبود اور محبوب کے علاوہ مقصود کے بھی ہیں۔ اﷲ تعالی مقصود حیات ہیں اور جناب رسول پاک اﷲ تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ شریعت کا پروگرام اسی مقصد کے حصول کو آسان بناتا ہے۔ سورہ آل عمران میں ارشاد ہے (ترجمہ)
”79 .... کسی بشر کو یہ سزاوار نہیں کہ اﷲ تعالیٰ اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا فرمائے۔ پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اﷲ (تعالیٰ) کو چھوڑ کر میرے بندے بن جا¶ لیکن ( وہ یہی کہے گا کہ) اﷲ والے ہو جا¶ بہ سبب اس کتاب کے جس کا تم علم رکھتے ہو اور جسے تم پڑھتے ہو۔“
سورہ المائدہ میں ارشاد ہے(ترجمہ)۔ ”116 .... اور جب (قیامت کے دن) اﷲ (تعالیٰ) فرمائے گا۔ اے عیسیٰؑ ابن مریمؑ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اﷲ (تعالیٰ) کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟
”عیسیٰؑ کہیں گے پاک ہے آپ کی ذات (ہر خامی سے) میں ایسی بات نہیں کہہ سکتا تھا جس کا کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا، تو آپ کو ضرور اس کا علم ہوتا۔ آپ جانتے ہیں جو میرے جی میں ہے۔ مگر میں نہیں جانتا کہ آپکے جی میں کیا ہے۔ بے شک آپ کو غیب کی ساری باتیں خوب معلوم ہیں۔“
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں