سورۃ الناس
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 22 جنوری ، 2010
سورہ الناس میں یہ دعا سکھائی۔
’’میں پناہ میں آتا ہوں انسانوں کے پروردگار کی، جو انسانوں کا حکمران ہے جو انسانوں کا الٰہ (معبود محبوب) ہے۔ پیچھے رہ کر وسوسہ اندازی کرنے والے کے شر سے۔ جو انسانوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ (خواہ وہ) جنات سے (ہو) یا انسانوں سے۔‘‘
گویا شیطان کا ایک بڑا حربہ وسوسہ اندازی ہے۔ یہ سامنے سے وار نہیں کرتا۔ پیچھے رہ کر وسوسہ اندازی کرتا ہے۔
اسکی مثال انگریزی میں چھپنے والا ایک مضمون بعنوان نبوت ہے۔ آغاز یوں کیا گیا ہے۔ ’’اگرچہ ابن خلدون کہتا ہے کہ ہر شخص کوشش کرے، تو نبوت حاصل کر سکتا ہے، مگر ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔‘‘ کیا لطیف انداز ہے ختم نبوت کے مسلمہ عقیدہ کو متزلزل کرنے کا؟سورہ الحجرات میں واضح ارشاد ہے کہ:
’’اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولؐ (پاک) سے آگے مت بڑھو۔‘‘
ابوجہل پہلے ابوالحکم (دانا) کے لقب سے مشہور تھا۔ حضورؐ کو پہچاننے اور ماننے سے انکار کیا، تو ابوالحکم سے ابوجہل ہوا اور قیامت تک ابوجہل ہی رہے گا۔
سیدنا ابوبکرؓ حضورؐ کی اطاعت میں سب سے آگے نکل گئے تو افضل البشر بعد الانبیاء کا مرتبہ پایا۔ صحابہؓ کرام کی سب سے بڑی خوبی جناب رسولؐ پاک کا ادب و احترام اور مکمل اطاعت ہے۔
آخری وقت سیدنا فاروق اعظم نے فرمایا:
’’اگر آج ابوحذیفہؓ کے آزاد کردہ غلام سالمؓ یا ابوعبیدہ بن الجراح زندہ ہوتے، تو میں کسی تردد کے بغیر ان میں سے کسی کو اپنا جانشین مقرر کر جاتا۔‘‘ کیوں ؟ اس لئے کہ حضورؐ اکرم نے ابوعبیدہؓ کو امین الامت فرمایا تھا۔ اور سالمؓ کے بارہ میں فرمایا تھا کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی بڑی محبت ہے۔ قرآن پاک میں انبیاء سے اس وقت دو عہد لئے جانے کا ذکر ہے، جب وہ ابھی وجود خاکی میں نہیں آئے تھے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ انبیاء روز ازل ہی سے الگ گروہ ہیں۔
حضورؐ اکرم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے براہ راست علم و حکمت عطا فرمائی تھی‘ اس لئے آپؐ کا ہر ارشاد مبنی برحکمت ہے۔ انکے بارے میں شک و شبہ کرنا ابوجہل ہونے کا ثبوت فراہم کرنا ہے…؎
بمصطفٰی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی ست
علامہ اقبالؓ نے مندرجہ ذیل شعر میں مومن کی تعریف کی ہے…؎
جو ذکر کی گرمی سے شعلہ کی طرح روشن
جو فکر کی سرعت میں بجلی سے سوا
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں