ملک جہان خان
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 22 فروری ، 2011
غرناطہ کے موسیٰ اور دلی کے بخت خان کی طرح جنوبی ہند کے ملک جہان خان نے بھی نامساعد حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ اس نے بھی ذلت و رسوائی کی زندگی کیساتھ سمجھوتہ نہ کیا بلکہ غیرت و حمیت کا راستہ اختیار کیا جو کٹھن راستہ ہے مگر بالآخر عزت کے معبد کی طرف لے جاتا ہے موت تو ہر ایک کو آنی ہے مگر کوئی ذلت کی موت اختیار کر لیتا ہے‘ کوئی عزت کی اپنا اپنا مقدر ہے۔ ملک جہان خان‘ سلطان ٹیپو شہید کے وفادار ملازموں میں سے تھا‘ غدار میر صادق نے اپنی سازشوں سے اسے پٹن کے قید خانہ میں ڈلوا دیا تھا سلطان کی شہادت کے بعد یہ بہادر شخص قید سے فرار ہو کر شہزادہ فتح حیدر سلطان کے پاس پہنچ گیا اور اسے انگریزوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا مشورہ دیا لیکن جب شہزادہ جنرل ہارس کے پاس چلا گیا تو گھوڑے پر سوار ہوا اور تنہا ایک طرف نکل گیا۔ اسکے تھوڑے ہی عرصہ بعد ہم اسے تین ہزار سواروں اور پیادوں کیساتھ اس خونیں داستان کے پس منظر سے ابھرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ خدا جانے اس نو مسلم مجاہد نے کہاں سے اور کیسے یہ سارا لشکر فراہم کر لیا۔
بہرحال یہ حقیقت ہے کہ اس نے انگریز کے تسلط و اقتدار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور آخر دم تک اس سے نبردآزما رہا اس نے اپنے جہاد کی ابتدا دریائے کرشنا اور دریائے بھورا کے درمیانی علاقہ سے کی پہلے اس نے حسن تدبر سے کندی کے صوبیدار کو اپنا موافق اور پشت پناہ بنایا پھر حاکم کو لار پور کو ساتھ ملا کر گوکھلہ مرہٹہ اور پر سرام پر دلیرانہ حملے کر کے انکے سر نیزوں پر چڑھا دئیے۔ انکو ختم کرنے کے بعد اس نے انگریزی فوج پر حملہ کی تیاریاں شروع کر دیں انگریزوں کیخلاف معرکوں میں اسکے دن رات مسلسل جنگ میں گزرتے رہے اس نے کئی فتوحات حاصل کیں اور بہت سا مال غنیمت چھینا مگر وہ کسی قلعہ پر قبضہ حاصل نہ کر سکا جو اسکے لشکر کیلئے پناہ گاہ کا کام دیتا۔ اسکی فوج ہمیشہ کوچ کی حالت میں رہی انگریزی فوج کے پاس توپ خانہ بھی تھا اسکے باوجود اس نے برابر دو سال انگریزوں کا مقابلہ کیا اور افغانوں نے اسکے ساتھ طرف داری کا ڈھونگ رچا کر اور اندر سے انگریزوں کے ساتھ مل کر اس کی جمعیت کو پراگندہ کر دیا مگر اس نے پھر بھی ہتھیار نہ ڈالے وہ ایک بار پھر یکا و تنہا کسی طرف نکل گیا اسکی یادگار اس کا نام ہی نام ہے جو ہمیشہ تاریخ کے صفحات کو مزین رکھے گا اور بہادروں کے حوصلے بڑھاتا رہے گا ملک جہان خان کا اصل نام دھوندو جی راگیہ تھا اور وہ ڈاکے ڈالا کرتا تھا۔ سلطان شہید نے اپنی شہادت سے ایک سال قبل اسے اپنی ملازمت کی دعوت دی تو اس نے سلطان کی ملازمت اختیار کر لی۔ سلطان نے اسکی تعلیم کیلئے اتالیق مقرر کیا۔ دس نگم سلطانی اس کا روزینہ مقرر ہوا اس نے اسلام قبول کر لیا تو اسکی خواہش کے مطابق اسے جہاں خان کا لقب عطا ہوا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں