قرآن پاک کا موضوع

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 22 اگست ، 2010
قرآن پاک انسانوں کیلئے ہدایت کی کتاب ہے‘ اسلئے اسکا موضوع انسان ہے تاکہ انسان اپنی زندگی کو بہتر بنا سکے‘ اور اگر وہ یہاں اپنی زندگی کو بہتر بنا لے تو انشاء اللہ موت کے بعد بھی ترقی کے درجات طے کرتا چلا جائیگا اور اگر وہ اس دنیا میں اپنی زندگی خراب کر لے تو یہاں بھی اس کیلئے خرابی ہے اور موت کے بعد بھی۔ انسان کی زندگی بہتر اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب اسکا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم ہو‘ اسلئے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی شان اور انکی صفات کا مفصل بیان ہے تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کو پہچانے‘ ان سے محبت کرے اور انکی اطاعت سے اپنی حالت بہتر بنائے۔ پیغمبروں کا بیان ہے کہ انہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کی کتب نازل فرمائیں۔ علاوہ ازیں وہ برتر انسانی زندگی کا نمونہ ہیں۔ یہ بھی انہی سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کیسے ہو؟ چنانچہ قرآن پاک میں فرمایا کہ جس نے جناب رسول پاکؐ کی اطاعت کی‘ اس نے یقیناً اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ جنت اور دوزخ کا بیان بھی ہے تاکہ پتہ چلے کہ اچھے اور برے اعمال کے نتائج کیا ہونگے۔ کائنات اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور اس میں غور و فکر سے اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔ علامہ اقبالؒ اپنے مشہور انگریزی خطبات میں رقم طراز ہیں کہ کائنات میں غور و فکر کرنیوالا سائنسدان بھی ایک طرح سے عبادت کرنیوالے صوفی کی مانند ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے‘ وہ تمہارے لئے مسخر کر دیا گیا ہے اسلئے کائنات کی قوتوں کو مسخر کرنا انسانی فریضہ ہے اور کائنات کو جانے بغیر اسکی قوتوں کو مسخر نہیں کیا جا سکتا۔ کائنات‘ اللہ تعالیٰ کی بہت زبردست اور شاندار تخلیق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تخلیق کائنات کے مراحل بیان فرمائے ہیں۔ اسکی خوبیاں بیان فرمائی ہیں‘ اور اس سے یہ نتیجہ اخذ فرمایا ہے کہ جو چیز اتنی محنت اور حکمت سے بنائی گئی ہے‘ وہ بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ ساری کائنات میں ایک ہی جیسے قوانین کارفرما ہونے کو اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ خالق اپنی تخلیق کی ایک ایک خوبی سے آگاہ ہوتا ہے۔ دوسرے بڑی مشکل اور کوشش سے اس تخلیق کی خوبیاں سمجھتے ہیں۔ پھر بھی پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں جو رموز کائنات اب سے چودہ سو برس پہلے بیان کر دیئے ہیں ان میں سے بعض تک سائنسدان اب صدیوں کی محنت اور کوشش کے بعد پہنچ پائے ہیں۔ یہ قرآن پاک کے منجانب اللہ ہونے کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ انہیں لوگوں کے سامنے لانے سے قرآن پاک پر ایمان اور مستحکم ہوتا ہے۔ صرف اتنا خیال رکھنا چاہئے کہ سائنس کے نظریات حرف آخر نہیں‘ اگر اسکا کوئی موجودہ نظریہ قرآن پاک کیمطابق نہ ہو‘ تو قرآن پاک کے الفاظ کو کھینچ تان کر اس سائنسی نظریئے کیمطابق کرنے کی بجائے یہ سمجھنا چاہئے کہ ابھی سائنس کی تحقیق ادھوری ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter