قرآن پاک … (۴)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 21 اگست ، 2010
قرآن پاک ہدایت کی کتاب ہے۔ ہدایت کا سرچشمہ اﷲ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہے اس لئے پہلے تو اﷲ تعالیٰ کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے۔ پھر یہ انسان کیلئے ہدایت ہے اس لئے انسان کے متعلق بھی پتہ چلنا چاہئے کہ وہ کیا ہے‘ پھر انسان نے اس کائنات میں زندگی بسر کرنا ہے اسلئے کائنات کا علم بھی ہونا چاہئے تو قرآن پاک کے خاص مضامین اﷲ تعالیٰ کائنات اور انسان ہیں۔ قرآن پاک میں ہدایت یافتہ گروہ اور گمراہ گروہوں کے متعلق بھی تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔
سورۃ الفاتحہ میں جو قرآن پاک کا ملخص ہے‘ پہلے اﷲ تعالیٰ کی صفات‘ ربوبیت‘ رحمت اور عدل کا بیان ہے۔ رحمت کیلئے دو اسمائے صفات الرحمٰن اور الرحیم لا کر اسکے باقی سب صفات الٰہی سے بڑھے ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
الفاظ ’’انصاف کے دن کے مالک‘‘ میں صفت عدل کے علاوہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ دنیا ختم ہونے والی اور قیامت قائم ہونیوالی ہے اور قیامت کے روز عدل کیساتھ ہر شخص کے اعمال کا حساب ہو جائیگا اور اسکے نتیجہ کے مطابق اسے جنت میں بلند سے بلند تر درجات یا جہنم میں پست سے پست تر گڑھوں میں سخت سے سخت تر عذاب کا سامنا کرنا ہو گا۔ اسکے بعد ہدایت یافتہ انسانی طرز عمل کا بیان ہے‘ یعنی یہ کہ صرف اﷲ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ عبادت میں فرمانبرداری بھی آجاتی ہے اور صرف اسی سے استعانت چاہی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ استعانت صراط مستقیم جاننے‘ پہچاننے اور اس پر چلنے کی ہے۔ آخر میں فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ وہ جو صراط مستقیم پر چل کر اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ یاب ہوتے ہیں‘ وہ جو صراط مستقیم کی پرواہ نہیں کرتے۔ اپنی من مانی کرتے ہیں اور اپنے اعمال بد کے باعث اﷲ تعالیٰ کے غضب میں آجاتے ہیں۔ تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو صراط مستقیم پا کر اسے کھو دیتے ہیں۔
سورۃ البقرہ کے آغاز میں انہی تین گروہوں کا ذکر ہے۔ پہلے گروہ کو متقین فرمایا یعنی اﷲ تعالیٰ کے خوف کے باعث برائی سے بچنے والے‘ انکی صفات بیان فرمائیں‘ ایمان بالغیب‘ اقامت‘ صلوٰۃ‘ ادائے زکوٰۃ‘ آخرت پر یقین۔
سورۃ انبیاء میں فرمایا کہ اس گروہ میں انبیائ‘ صدیقین‘ شہداء اور صالحین داخل ہیں۔ دوسرا گروہ کافرین کا ہے جو ہدایت پانے کی استعداد کھو چکے ہیں۔ انکے بارے میں فرمایا کہ انکی بداعمالیوں کے باعث اﷲ تعالیٰ نے انکے قلوب پر مہر لگا دی ہے‘ یعنی وہ حق بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ انکی آنکھوں پر پردے پڑ چکے ہیں‘ یعنی وہ اپنے گرد و پیش کے حالات سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں