اسلامی تیوہار
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 19 ستمبر ، 2009
سب قوموں کے تیوہار ہیں لیکن بالعموم وہ اپنے تیوہار مناتے وقت کھیل تماشے، پینے پلانے اور ناچ گانے وغیرہ میں کھو جاتی ہیں۔ ہم مسلمانوں کے بھی دو تیوہار ہیں۔ عیدالفطر اور عیدالاضحٰی۔ مگر ہم انہیں مناتے وقت اسلام کی بنیادی باتوں تعلق باللہ، باہمی اخوت اور انسانی وقار کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ ہم ایسی حرکات سے بچتے ہیں اور انسان کو حیوان کے درجہ پر لے آئیں۔
دونوں عیدوں کا آغاز اللہ تعالیٰ کی جناب میں دو رکعت نماز کا نذرانہ عقیدت پیش کرنے سے ہوتا ہے۔ عیدالفطر میں نماز سے پہلے ناشتہ کرنا مسنون ہے کیونکہ روزوں کے دوران علی الصبح سحری کھانے کی عادت راسخ ہو چکی ہوتی ہے۔ نماز عید سے پہلے فطرانہ ادا کرنا ضروری ہے۔ بچوں کی طرف سے بھی فطرانہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ رقم ضرورت مندوں کو پیش کر دینی چاہئے۔ فطرانہ روزوں کے دوران جو کوتاہیاں ہو جاتی ہیں، انکا کفارہ بھی ہے۔ ہم بھی عید کے موقع پر خوشی مناتے ہیں۔ اس موقع پر اچھا کھانا، اچھا پہننا مسنون ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ زینت یعنی اچھا لباس کس نے محرام کیا ہے؟ یہ تو ہے ہی صاحب ایمان لوگوں کیلئے۔ کفار کو تو ایمان والوں کے طفیل ان چیزوں سے تمتع اندوز ہونے کا موقع مل رہا ہے کیونکہ اس دنیا میں کافر اور مومن ملے جلے ہیں۔ ورنہ آخرت میں جب انہیں جدا جدا کر دیا جائیگا، کفار اچھے لباس اور اچھی خوراک سے محروم ہونگے۔
قرآن پاک میں یہ بھی ارشاد ہے کہ حلال و طیب کھائو۔ البتہ اسراف و تبذیر سے بچنے کا حکم ہے۔ اسراف ضرورت پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا ہے اور تبذیر بلا ضرورت مال اڑانا ہے۔
مبذرین کو شیاطین کے بھائی فرمایا۔ نیز فرمایا کہ شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ مبذرین جو اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال کو اللوں تللوں پر اڑا دیتے ہیں، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ناشکرے ہیں۔
اس موقع پر ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔ وہ اس وقت آگ اور خون کے طوفان میں سے گزر رہے ہیں۔ ان پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے، کمینہ دشمن انہیں بھوکوں مار رہا ہے۔ عورتوں کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ بچوں کو خوراک سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر جو ادارے قائم ہیں، انکے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ نہ ریڈ کراس والے وہاں خوراک، لباس اور دوائیاں پہنچانے کا انتظام کر رہے ہیں، مسلمانوں پر ظلم ہو تو ان سب کی انسان دوستی ختم ہو جاتی ہے، ان کی زبانوں کو تالے لگ جاتے ہیں۔ مسلمان کے خلاف انہیں کوئی ذرا سی بات بھی ہاتھ آ جائے تو یہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں