جرائم سے پاک معاشرہ
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 20 جنوری ، 2012
جرائم کا سدباب اسی صورت میں ممکن ہے جب ہرفردکے اندرجرائم کنٹرول بٹن موجودہو‘ دوسرے‘ معاشرہ بحیثیت مجموعی جرائم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے اور ہمہ وقت ان کےخلاف کوشاں رہے۔
قرآن پاک تقویٰ کو مقصود حیات قراردیتا ہے۔ سورہ البقرہ میں فرمایا: اے لوگو!اپنے رب کی عبادت کرو‘ جس نے تمہیں اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا‘ تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیداہو۔(سورہ البقرہ)
گویا تقویٰ عبادت کا مقصودہے۔ روزوں کے رکوع کے آغازمیں فرمایا کہ رمضان المبارک کے مہینے کے روزے رکھوتاکہ تمہارے اندرتقویٰ پیدا ہو۔حج کے بارہ میں فرمایا کہ زادراہ لے لیا کرو اور بہترین زادراہ تقویٰ ہے۔نیز فرمایا کہ تقویٰ بہترین لباس ہے۔ ایک حدیث شریف کےمطابق جب بندہ کو اس کی نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے‘ تب وہ ایمان کی حلاوت سے لطف اندوزہوتاہے۔ دوسرے الفاظ میں تقویٰ یہ ہے کہ انسان کے اندر نیکی کا ذوق پیدا ہوجائے۔اسے برائی سے طبعاً نفرت ہو جائے۔ یہی وہ صورت ہے جب کہ اپنے اندر برائی کےخلاف کنٹرول پیدا ہوجاتاہے اور یہ چیز ایمان اور تعلق باللہ کاثمرہ ہے۔قیامت کے روزحساب کتاب کا خوف بھی جرائم کےخلاف روک ثابت ہو سکتا ہے۔
قرآن پاک نیکی کو معروف اور بدی کو منکرکہتا ہے۔ (یعنی نیکی وہ ہے جسے سب پہچانتے ہیںاور بدی وہ جسے سب ناپسند کرتے ہیں) اور ہرمسلمان کو حکم دیتاہے کہ وہ تازیست نیکی کا حکم دیتا رہے اور برائی سے روکتا رہے۔
یہ بھی ارشاد ہے کہ تم میں سے ایک ایسا گروہ ہو‘ جو یہ کام سرانجام دے۔ گویا عوام انفرادی لحاظ ہی سے نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بھی یعنی پرائیویٹ اداروں کے ذریعہ بھی یہ کام سرانجام دیں۔
سورہ ھود کے آخر میں فرمایا کہ جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو صرف وہی لوگ بچتے ہیں جوآخری دم تک برائی کے خلاف جدوجہدجاری رکھتے ہیں۔
سورہ الاعراف میں یہود کی ایک بستی کا ذکر ہے جس پر عذاب آیااوروہی لوگ اس عذاب سے بچے جوبرائی سے روکتے تھے۔ جو لوگ صرف خود برائی سے بچتے تھے ان کے بچائے جانے کا ذکر نہیں۔ حدیث شریف کے مطابق کسی بستی کو تباہ کر دینے کا حکم صادر ہوا۔
جبریل امین ؑنے عرض کیا کہ اس میں فلاں شخص بھی ہے جو بہت عبادت گزار ہے اورجس نے کبھی آپکے حکم کی خلاف ورزی نہیںکی۔حکم ہوا اسے بھی ساتھ ہی چلتاکروکیونکہ اسکے سامنے ہمارے احکام کیخلاف ورزی ہوتی ہے‘ مگر اس کی پیشانی پر شکن تک نہیں پڑتی۔
گویا جوشخص برائی کیخلاف نفرت بھی نہیں رکھتا وہ ایمان سے خالی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں