قرآن پاک … (۳)

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 20 اگست ، 2010
رمضان المبارک بابرکت مہینہ ہے، کیونکہ اس میں قرآن پاک نازل ہوا اور جس سینہ پر قرآن پاک نازل ہوا اور مسلسل ۳۲ برس نازل ہوتا رہا۔ اس کی برکتوں اور عظمتوں کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔
قرآن پاک کتاب ہے۔ لاجواب کتاب مگر اس کتاب کی تفسیر حضور اکرمؐ کی حیات طیبہ ہے۔ جیسے قرآن پاک لاجواب ہے، اسی طرح جناب رسالتؐ مآب کی شخصیت عظیمہ بھی لاجواب ہے، جیسے قرآن پاک میں پہلی جملہ آسمانی کتابوں کے محاسن و مضامین نہ صرف یکجا کر دئیے گئے ہیں۔ بلکہ زیادہ فصاحت و بلاغت سے اور زیادہ احسن انداز میں پیش کئے گئے ہیں، اسی طرح ہمارے رسولؐ پاک کی ذات گرامی میں پہلے تمام انبیاء کے محاسن و فضائل بھی ہیں اور ان سے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ ہے۔ اندھوں کو اگر کچھ نظر نہیں آتا، تو ان کی مجبوری ہے۔
قرآن پاک کا یہ اعجاز ہے کہ معمولی پڑھے لکھے لوگ، درمیانہ درجہ کے تعلیم یافتہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ بڑے بڑے فلسفہ دان اور محقق، علمی نکات کے جویا، رموز عشق کے شائق سب اس سے بقدر استعداد بہرہ اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان پڑھ بھی اسے ناظرہ پڑھیں یا سنیں تو اس کی برکات سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ کسی انسان کی لکھی ہوئی کتاب میں یہ بات پیدا نہیں ہو سکتی۔ وہ کسی ایک طبقہ ہی کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ شان صرف اسی ذات کی کتاب میں پیدا ہو سکتی ہے، جو سب کا خالق اور سب کا رب ہے‘ جس کا اپنے ہر بندے سے تعلق ہے۔ جو اپنے ہر بندہ کو فطرت کو سمجھتا اور اسکے دل کے رازوں کو جانتا ہے۔ الفاظ کا حسن انتخاب، چند فقروں یا لفظوں میں پورا واقعہ بیان کر دینا، مختصر الفاظ میں بہت سے جذبات مثلاً تعجب، تحیر، حسرت وغیرہ کی عکاسی، الفاظ اور انداز بیان کی پاکیزگی، واقعاتی صحت، ایک ہی مضمون ہر بار نئے رنگ اور نئے ڈھنگ سے بیان کرنا، تاکہ پڑھنے والے کے ذہن میں راسخ ہو جائے۔ کائنات اور انسانی تخلیق کے بڑے بڑے اسرار کی جانب چند الفاظ میں اشارہ کر جانا، قرآن پاک کی خاص خوبیاں ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ خالق بات کر رہا ہے۔ قرآن پاک کے آغاز ہی میں فرما دیا کہ یہ کتاب متقین کیلئے ہدایت ہے اس لئے قرآن پاک کو سمجھنے کیلئے سب سے زیادہ ضروری چیز تقویٰ ہے۔ عربی زبان جاننا بھی ضروری ہے۔ تاریخ انسانی اور کائنات کا علم جتنا زیادہ ہو گا اسی قدر زیادہ قرآن پاک سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا لیکن قرآن پاک کا جو اصل مقصد ہے ہدایت، اسے وہی حاصل کریگا جس کے اندر تقویٰ ہو گا جو شخص تقویٰ سے خالی ہے، اس کا علم خواہ کتنا وسیع ہو، وہ قرآن پاک سے پوری طرح فیض یاب نہیں ہو سکے گا۔ قرآن پاک کی موجودہ ترتیب میں ایک ربط اور تسلسل ہے۔ آیت کا آیت سے ربط ہے۔ رکوع کا رکوع سے ربط ہے۔ سورۃ کا سورۃ سے ربط ہے مگر اسے سمجھنے کیلئے غور و فکر درکار ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter