زکوٰۃ
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 18 مارچ ، 2011
قرآن پاک میںصلٰوۃاور زکوٰۃکوتقریباً سا تھ ساتھ رکھا گیا ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ اس سے مومن و کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ اس سے ایک چھوٹے محلہ سے ایسے معاشرہ کی بنیاد پڑتی ہے ، جس کی بنیاد تعلق باللہ، اخوت و مساوات ، ضبط پر ہے۔ زکوٰۃ اس معاشرہ میں مالی ہمواری پیداکرتی ہے۔ زکوٰۃ وہ ٹیکس ہے جو دولت مندوںسے لیکر غریبوں پرتقسیم کر دیا جاتا ہے۔
اسلام نے روحانیت، معاشرتی تعلقات اور مالی ضروریات کی کفالت کو ساتھ ساتھ رکھا ہے اور یہی اسکی خوبی ہے۔ حضور اکرم ؐ نے فرمایا‘ جوشخص سونے چاندی کا مالک ہو اور زکوٰۃ ادا نہ کرے، تو قیامت کے روز اس سونے چاندی کی تختیاں بنائی جائیںگی اور انہیں آگ میں تپا کر ان سے انکی پیشانیاں اور پہلو اورکمریں داغی جائیں گی۔
نیز فرمایاجوشخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیںکرتا ، اس کا مال قیامت کے دن ایک سانپ کی صورت میں اسکے گلے میں ڈالا جائیگا۔ وہ سانپ اسکی دونوں باچھیں پکڑ لے گا اور اس سے کہے گا‘ میں تیرا مال ہوں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کیلئے زکوٰۃ لینا حلال نہیں اور نہ اس شخص کیلئے ہے جو تندرست و توانا ہو۔
آنجناب نے فرمایا‘ سوال کرنا صرف تین آدمیوں کو جائز ہے۔ایک وہ جوکسی کے قرضہ کا ضامن ہوا۔ وہ قرضہ کی رقم کیمطابق مانگ سکتا ہے۔ دوسرا وہ جو کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہو جائے۔ (مثلاً سیلاب وغیرہ) وہ اتنا مانگ سکتا ہے، جس سے اسکی ضرورت پوری ہو جائے۔ تیسرے ، وہ جس کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو اور محلہ کے تین اشخاص بھی اسکی شہادت دیں وہ بھی صرف بقدر ضرورت مانگ سکتا ہے۔ جو شخص ان تینوں صورتوں کے علاوہ مانگے گا، وہ حرام ہو گا اور وہ حرام مال کھائے گا۔
نیز فرمایا‘ جو شحض اسلئے مانگتا ہے کہ لوگوں سے لیکر اپنا مال بڑھائے۔ (پیشہ ور گدا گر) وہ اپنے لئے آگ کا انگارہ مانگتا ہے۔ اب یہ اس کا اختیار ہے کہ تھوڑا مانگے یا زیادہ۔ یہ بھی فرمایا‘ کوئی شخص ہمیشہ لوگوں سے بھیک مانگتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ اس حال میں آئیگا کہ اسکے چہرے پر گوشت کی بوٹی تک نہ ہو گی۔
ایک اور حدیث شریف کیمطابق حضور اکرم ؐنے فرمایا جو شخص سوال سے بچے، اسے اللہ تعالیٰ بچاتا ہے۔ جو شخص بے نیازی کا اظہار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے دوسروں سے بے نیازکر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ صبرکی توفیق عطا فرماتا ہے اور نہیں دی گئی کسی کو کوئی بخشش جو صبر سے بہتر اور وسیع تر ہو۔ فرمایا‘ قیامت کے روز سوال کرنیوالے کے چہرے پر سوال کا زخم اور داغ ہو گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں