تازہ ترین:

قل ھو اللہ احد

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 18 دسمبر ، 2011
علامہ اقبالؒ نے ”رموز بے خودی“ کے آخر میں سورة اخلاص کے مطالب کے ذریعہ اپنی اس مثنوی کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں۔
میں نے ایک رات سیّدنا صدیق ا کبرؓ کو خواب میں دیکھا اور انکے راستے کی خاک سے پھول چنے۔ یعنی انکے ارشادات سے بہرہ اندوز ہوا۔
سیّدنا صدیقؓ ہمارے طور سینا (اسلام کے نور ہدایت) کے پہلے کلیم تھے۔ یعنی آپ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف پایا۔
آپؓ کی ہمّت و محنت نے ملّت کی کھیتی کیلئے اَبر کام کام کیا۔ آپؓ اسلام لانے میں غارِثور میں غزوہءبدر میں اور اب روضئہ اقدس میں حضور کے ساتھ ہیں۔
اقبالؒ لکھتے ہیں ”میں نے انکی خدمت میں عرض کیا۔ اے خاصئہ خاصانِ رسل(رسول پاک) آپکا عشق دیوان عشق کا مطلع ہے (آپ عشق نبی میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں) اسلام کے کام کی بنیاد آپ کے ہاتھوں پختہ ہوئی۔ ہمارے (آج کے) دکھ کا کوئی علاج بتائیے۔“
انہوں نے فرمایا ”تو کب تک ہوس کا قیدی بنا رہے گا۔ سورة اخلاص سے ہدایت کی ر وشنی اور قوت حاصل کر۔“
یہ توحید کے اسرار کا ایک سرا ہے جو سینکڑوں سینوں میں ایک ہی سانس کی طرح آتا جاتا ہے (یعنی توحید اخوت پیدا کرتی ہے)
اللہ تعالیٰ کا رنگ اپنا‘ اسی کی مانند ہو جائے گا۔ اسی کے جمال کا عکس بن جائےگا۔ یہ جو اس نے تیرا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس سے تجھے کثرت سے وحدت کی طرف لایا گیا ہے۔
تو اپنے آپ کو ترک و افغان (سندھی‘ مہاجر‘ پنجابی‘ پٹھان‘ بلوچی) کہتا ہے۔ افسوس ہے تجھ پر! تو جو تھا‘ وہی رہا (یعنی تو نے اسلام قبول کرنے کے بعد بھی جاہلیت کی باتیں نہ چھوڑیں۔)
امت مسلمہ کو ان (علاقائی اور لسانی) ناموں سے چھٹکارا دلا۔ خم‘ (اسلام) سے اپنی نسبت قائم رکھ۔ پیالوں پر نہ جا۔ (قرآن پاک میں ارشاد ہے خاندان اور قبائل صرف پہچان کیلئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت کا معیار صرف تقویٰ ہے)
نوجوان (علاقائی اور لسانی) ناموں میں پڑ کر رسوا ہو چکا ہے‘ تو شجر اسلام سے کچے پھل کی طرح گر چکا ہے۔
شجر اسلام سے وابستہ رہ کر تجھے پکنا چاہئے تھا‘ مگر تو ان تفریقوں میں پڑ کر ناپختہ ہی درخت سے گر گیا اور تو نے اپنے ترقی کے امکانات مسدود کرلئے۔
امت مسلمہ ایک تھی‘ تو نے اسے سینکڑوں قومیتوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ تو نے ا پنے قلعہ پر شبخون مار کر خودہی اسے مسمار کر دیا ہے۔ توحید کا عملی نمونمہ پیش کر اور ایک ہو جا۔ نظر یہ توحید کو عملاً پیش کر۔“
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter