قرآن پاک .... (۱)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 18 اگست ، 2010
ہر پیغمبر کو اسکے دور کےمطابق معجزہ عطاہوا۔ ہمارے حضور اکرم کا دور علمی دور ہے۔ بلکہ حضور ہی سے اس دور کا آغاز ہوا۔ آنجناب کی تشریف آوری کے بعد انسانیت توہمات اور تعصبات کے اندھیروں سے نکل کر علم کی روشنی میں آ گئی۔ چنانچہ آپ کو قرآن پاک کا علمی معجزہ عطا ہوا اور چونکہ آپ کا دور مبارک قیامت تک کیلئے ہے‘ اس لئے اس معجزہ کوتاقیامت محفوظ کردیا گیا۔ حضور اکرم کی شخصیت مبارکہ ہر لحاظ سے حسین و عظیم ہے‘ اسی طرح قرآن پاک بھی ہر لحاظ سے مکمل و اکمل ہے۔ مضامین کے اعتبار سے بھی اور انداز و اسلوب کے اعتبار سے بھی۔ کفار اسکی اثر انگیزی کے باعث اسے جادو کہہ دیتے۔ اسکے آہنگ کی وجہ سے اسے شاعری کہتے مگر جو صاحب نظر تھے‘ وہ سمجھ گئے کہ یہ کلام شاعری سے ماوراءہے۔آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کا تصور پیش کیا گیا ہے‘ ذرا اسکی بلاغت دیکھئے۔”اللہ (تعالیٰ)‘ اسکے سوائے کوئی اللہ (محبوب و مقصود و معبود) نہیں۔ الحی القیوم (وہ ازخود زندہ اور ازخود قائم ہے۔ باقی سب اسکی وجہ سے زندہ و قائم ہیں)۔ نہ اسے اونگھ آتی ہے‘ نہ نیند۔ (اونگھ اور نیند کمزوری کی علامت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر دم قوی اور چاق وچوبند ہیں)۔ زمین و آسمان کی ہر شے اسی کی ہے۔ (کائنات کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز ذرہ یا بڑی سے بڑی چیز جیسے اجرام سماوی ان کے حکم و اختیار سے باہر نہیں)۔ کون ہے جو اسکے پاس سفارش کرے‘ مگر اسکی اجازت سے۔ (سفارش کی تین صورتیں ہیں‘ جسکے پاس سفارش کی جائے‘ اسے معاملہ کا پورا علم نہ ہو‘ اسے بتایاجائے کہ صحیح صورتحال یہ ہے‘ یا اس پر زور چلتا ہو اس وجہ سے اس سے کام کرا لیا جائے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بااختیار اور علیم و خبیر حاکم مطلق اپنے کسی مقرب کی عزت افزائی کیلئے اسے سفارش کی اجازت دیدے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف تیسری قسم کی شفاعت چل سکتی ہے)۔ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کو پیش آنےوالا ہے اور جو کچھ انکے پیچھے ہے۔ (یعنی جو کچھ وہ کر چکے ہیں) اور وہ اسکے علم میں سے کسی شے پر احاطہ نہیں رکھتے‘ سوائے اسکے جو وہ چاہے۔ (بندوں کا علم محدود ہے اور اللہ تعالیٰ کا عطاکردہ ہے)۔ اسکی کرسی (حکمت) کی وسعت آسمانوں اور زمین پر محیط ہے اور اس پر انکی حفاظت گراں نہیں (کہ اسے کسی اور کی مدد کی ضرورت ہو) اور وہ بلند مرتبت اور عظیم ہے“۔ سورہ ہودؑ کی دوآیات میں طوفان نوحؑ کا نقشہ کھینچ دیا۔ ”اور وہ (کشتی) چلے جا رہی تھی انہیں اٹھائے ہوئے‘ پہاڑوں کی مانند (اٹھتی ہوئی) موجوں کے درمیان سے‘ اور پکارا نوحؑ نے اپنے بیٹے کو‘ اور وہ ایک طرف (کھڑا) تھا۔ اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ“۔ ” وہ بولا: ابھی میں پہاڑ پر چڑھ جاﺅں گا۔ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوحؑ نے کہا:آج اللہ (تعالیٰ) کے امر (عذاب) سے کوئی بچانے والا نہیں‘ مگر جس پر وہ رحم فرمائے۔ (اسی دوران) دونوں کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی اور وہ غرق ہوگیا“۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں