باجماعت نماز
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 17 ستمبر ، 2009
قرآن پاک کیمطابق دنیا محض کھیل تماشا نہیں‘ بلکہ حق و باطل کی رزمگاہ ہے۔ ایک طرف اہل حق (اللہ تعالیٰ کی پارٹی) ہیں‘ دوسری طرف اہل باطل (شیطان کی پارٹی) ہیں۔ انکے درمیان ہر لمحہ اور ہر مقام پر جنگ لڑی جا رہی ہے۔ نماز با جماعت مسلمانوں کو اس جنگ کیلئے تیار کرتی ہے۔ روحانی اور عملی ہر دو لحاظ سے قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ نماز بے حیائی کے کاموں سے اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
قرآن پاک کیمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا امر کرنے اور برائی سے روکنے ) کا فریضہ ہر مسلمان کے ذمے ہے۔ انفرادی لحاظ سے بھی اجتماعی لحاظ سے بھی اور حکومتی سطح پر بھی۔ جناب رسول پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ برائی کو ہاتھ سے روک۔ اگر اسکی استطاعت نہیں رکھتا ‘ تو زبان سے منع کر اگر اتنا بھی نہیں کر سکتا‘ تو وہاں سے چلا آ (یعنی برائی پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دے ) اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔ گویا مسلمان وہ ہے جو برائی کو کسی صورت برداشت نہ کرے۔ جہاد بالسیف باطل نظاموں کیخلاف کیا جاتا ہے‘ کیونکہ باطل نظام برائی کو جنم دیتے ہیں۔ اسلام کسی فرد سے یہ نہیں کہتا کہ وہ ضرور اسلام قبول کرے‘ مگر اس پر ضرور زور دیتا ہے کہ ہر شخص اسلامی نظام کے تحت زندگی گزارے۔ جیسے ہم برائی کو برداشت نہیں کرتے۔ اسی طرح ہم باطل نظام کو بھی برداشت نہیں کرتے اگر کوئی سپاہی پریڈ بڑی اچھی کرے‘ وردی بھی ٹھیک ٹھاک رکھے لیکن میدان جنگ کا رخ بھی نہ کرے‘ تو کیا اسے آپ اچھا سپاہی کہیں گے؟ کیا کمانڈر انچیف ایسے سپاہی کو فوج میں برداشت کریگا؟ یہی حال ان نمازیوں کا ہے جو نماز تو پانچ وقت پڑھتے ہیں مگر نہ برائی کا مقابلہ کرتے ہیں اور نہ جہاد میں عملاً حصہ لیتے ہیں۔
پاکستان میں ماشاء اللہ نمازیوں کی خاصی تعداد ہے۔ ایسی جماعتیں بھی ہیں‘ جو گھر گھر جا کر نماز کیلئے کہتی ہیں۔ اگر سارے نماز ی اور نماز کیلئے کہنے والی جماعتیں برائی کیخلاف کمر بستہ ہو جائیں ‘ تو ہم برائی کے موجودہ سیلاب کے آگے بند باندھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ محلوں میں گھر گھر جا کر نماز کیلئے کہنے کیساتھ ساتھ منشیات پتنگ بازی‘ شادی بیاہ پر اسراف و تبذیر کیخلاف بات کی جائے۔ دفتروں میں تضیع اوقات اور کام سے لاپروائی اور رشوت کیخلاف مہم چلائی جائے۔ معاشرہ میں ظلم اور فحاشی کیخلاف آواز اٹھائی جائے‘ تو حالات میں ضرور تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اگر نماز فحاشی اور برائی سے نہیں روکتی تو قرآن پاک کی رو سے اس نماز کو نماز نہیں کہا جا سکتا۔ نمازیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو اور ساتھ ہی فحاشی اور برائی بھی بڑھتی جائے‘ یہ عجیب سی بات ہے۔ جو دوسروں کو برائی سے روکے گا‘ اسے خود بھی برائی چھوڑنا ہو گی‘ یہ نہیں کہ جب تک میں بالکل پاک صاف نہ ہو جائوں‘ میں برائی سے روکنے کا کام شروع نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جہاد بالسیف میں حصہ لیں گے تو اپنی خامیاں بھی دور ہوں گی اور معاشرے سے بھی برائیوں کا خاتمہ ہو گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں