تازہ ترین:

تراویح یا تہجد

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 17 مارچ ، 2011
تراویح کی نماز شروع ہی سے نصف شب سے پہلے کی نماز چلی آ رہی ہے، جبکہ نماز تہجد نصف شب سے بعد (رات کے تیسرے پہر) کی نمازہے۔تراویح کے لفظی معنی وہ کام ہے جو شام کے وقت کیا جائے۔ نماز تہجد کے بارہ میں سورة اسراءمیں ارشاد ہے (ترجمہ) ” اور رات کے دوران ( نماز کےلئے) بیداری اختیار کر۔ یہ زاید نماز (نفل نماز) صرف آپ کے لئے ہے....“ شاہ ولیؒ اللہ نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ و بعضے شب بیدار باش یہ قرآن شب خیزی.... یعنی رات کے دوران قرآن شب خیزی میں بیدار رہ۔ پھر تہجد صرف جناب رسول پاک پر فرض ہے۔ امتیوں پر نہیں۔ اگر نماز تراویح، نماز تہجد ہی کی صورت ہوتی، تو جناب رسول پاک واضح الفاظ میں فرما دیتے کہ رمضان المبارک کے دوران تہجد کی نماز ضرور پڑھو۔ اور صحابہؓ کرام اسے عشاءکے بعد ادا نہ کرتے۔نماز تہجد کے بارے میں زیادہ تر یہی سمجھا گیا ہے کہ یہ بندے اور اس کے رب کے درمیان خاص راز و نیاز کی نماز ہے۔ اس لئے اسے بغیر جماعت کے ادا کرنا چاہئے اور بالعموم اسے اسی طرح ادا کیا جاتا ہے۔ شروع سے اس کے برعکس نماز تراویح جناب رسول پاک نے باجماعت پڑھائی خواہ صرف تین شب۔ اس سے بھی ان دونوں نمازوں کا فرق ظاہر ہے۔ امت مسلمہ میں تراویح کی جو موجودہ صورت رائج ہے، یہی بہترین صورت ہے۔ تراویح باجماعت پڑھی جاتی ہے۔ اور اس کے لئے نظیر موجود ہے۔ تراویح کے دوران قرآن پاک ختم کیا جاتا ہے۔ اور اس کی بھی نظیر موجود ہے۔ رمضان المبارک کے دوران جبریلؑ امین، حضور اکرم کی خدمت میں ہر شب باقاعدہ حاضری دیتے اور اس مہینے میں حضور سے مل کر قرآن پاک کا دور مکمل کرتے۔ رہا مسئلہ ہر شب قرآن پاک کا سوا پارہ پڑھنے کا ۔ تو یہ انتظام سہولت کےلئے کر لیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مقرر کر کے عبادت کرنا مثلاً موجودہ صورت میں مقرر کر لینا کہ ہر رات سوا پارہ قرآن پاک پڑھا جائے گا، بدعت ہے، وہ بھی تراویح میں قرآن پاک پڑھنے کی موجودہ صورت کو بدعت نہیں کہتے۔ اسی طرح رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تین یا اس سے کم و بیش راتوں میں قرآن پاک ختم کرنے کےلئے شبینے منعقد کرنے کا جو طریقہ چل نکلا ہے، اسے بھی کوئی کٹڑ سے کٹڑ ”بدعت ساز“ بدعت نہیں کہتا، حالانکہ دور اول میں اس کی کوئی نظیر یا مثال نہیںملتی۔ رہا سوال کہ بعض مساجد میں ہر چار تراویح کے بعد اس سے قبل قرآن پاک کی تلاوت کی گئی آیات کا ترجمہ سنایا جاتا ہے، تو یہ اچھی بات ہے پھر اس میں کوئی زبردستی نہیں جو چاہے ایسی مساجد میں جائے جو نہ چاہے نہ جائے۔ قرآن پاک کے الفاظ کے اپنے انوار ہیں جن سے ہر پڑھنے والا یا انہیں سننے والابہرہ اندوز ہوتا ہے، خواہ وہ ان کے مطالب سمجھے یا نہ سمجھے، جو لوگ تراویح کے دوران قرآن پاک سنتے ہیں، وہ یقینا انوار الٰہی کی برکات سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter