اللہ والے
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 15 جون ، 2009
حضرت پیران پیر سید عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں۔ ’’دنیا کے مرید بہت ہیں اور آخرت کے کم اور اللہ تعالیٰ کے سچے ارادت مند بہت ہی کم ہیں لیکن وہ اپنی کمی اور نایابی کے باوجود اکسیر کا حکم رکھتے ہیں۔ ان میں تانبے کو زرِ خالص بنانے کی صلاحیت ہے۔ وہ بہت ہی شاذ و نادر پائے جاتے ہیں‘ وہ زمین پر حکومت کرنیوالے ہیں‘ وہ شہروں میں بسنے والوں پر کوتوال مقرر ہیں‘ انکی وجہ سے خلق خدا سے بلائیں دور ہوتی ہیں‘ انہی کے طفیل اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے‘ انہیں کے سبب زمین قسم قسم کے اجناس اور پھل پیدا کرتی ہے۔ ابتدائی حالت میں وہ شہر در شہر اور ویرانہ در ویرانہ بھاگتے پھرتے ہیں‘ جہاں پہچانے جائیں وہاں سے چل دیتے ہیں‘ پھر ایک وقت آتا ہے کہ انکے اردگرد خدائی قلعے بن جاتے ہیں۔ الطاف ربانی کی نہریں انکے دلوں کی طرف جاری ہو جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا لشکر انہیں اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے‘ وہ مکرم اور محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اب ان پر خلقت کی طرف توجہ کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ وہ طبیب بن کر مخلوق خدا کا علاج کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں تمہاری عقل سے بالاتر ہیں۔ تجھ پر افسوس! تو دعویٰ کرتا ہے کہ تو بھی ان میں سے ہے۔ تیرے پاس انکی کیا علامت ہے؟ تیرے پاس اللہ تعالیٰ کے قرب اور رحمت کی کیا نشانی ہے؟ تیرا مقام اور منزل کیا ہے؟ عالم بالا میں تیرا کیا نام اور لقب ہے؟ تیرا کھانا مباح ہے یا حلال خالص‘ تم دنیا کے پہلو میں ہو یا آخرت کے پہلو میں یا قرب خدا کے پہلو میں؟‘‘ جھوٹے خلوت میں تیرا ہم نشین نفس اور شیطان ہے تیری محفل میں تیرے جو ہم نشین ہیں وہ شیاطین بصورت انسان ہیں‘ وہ تیرے برے دوست ہیں جو بہت بکواس کرنیوالے ہیں۔
ربی مقام صرف دعوے سے حاصل نہیں ہوتا تمہاری ارادت اللہ تعالیٰ کیلئے صحیح نہیں‘ دراصل تم اسکی ارادت رکھتے ہی نہیں کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرے اور غیر کا طالب ہو اس کا دعویٰ باطل ہے۔ غیبت سے بچو کیونکہ وہ نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جیسے لکڑی کو آگ جلا دیتی ہے جس نے غیبت کو چھوڑا اس نے نجات پائی‘ جس شخص نے غیبت کی عادت اپنائی اسکی عزت لوگوں میں کم ہوئی۔ بری نظر سے بچو کیونکہ وہ تمہارے دل میں شہرت کا بیج بوتی ہے۔ ایسے شخص کا انجام دنیا و آخرت میں اچھا نہیں ہوتا۔ جھوٹی قسم سے بچو کیونکہ وہ بستے گھروں کو ویران کردیتی ہے اور مال اور دین کی برکت جاتی رہتی ہے۔ دنیا میں مشغول رہنے والوں کو عنقریب اس پر ندامت ہو گی‘ یہ ندامت قیامت کے دن ظاہر ہو گی‘ آخرت کے آنے سے پہلے اپنے نفس کا حساب کرلو۔
اللہ تعالیٰ کے کرم اور بردباری پر ناز نہ کرو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں