رحمت بے پایاں … (۳)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 14 ستمبر ، 2009
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمتہ للعالمین فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے بڑا شاہکار حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مکمل ترین اظہار ہوا۔ سورہ آل عمران میں فرمایا: ’’اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ (آیت 132) گویا اللہ تعالیٰ کی رحمت، حاصل کرنے کا ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔
سورہ الاعراف میں فرمایا:
’’اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت خوبصورت (نیک) اعمال کرنے والوں سے قریب ہے۔‘‘ جتنے اچھے اعمال کوئی کرتا ہے اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت عام ہے۔ اس کا برتاؤ اپنے بندوں سے رحمت کا برتاؤ ہے۔
مثلاً یہی کہ ہر نیکی کا اجر کم از کم دس گنا ملتا ہے اور پھر ستر گناہ بھی اور سات سو گنا بھی اور بے حساب بھی، لیکن ایک بدی کا گناہ اتنا ہی ہے پھر یہ بھی کہ نیکی کی نیت پر بھی اجر ہے۔ بدی جب تک عمل میں نہ آ جائے، وہ جرم نہیں۔
پھر یہ کہ یہاں قانون مہلت کام کر رہا ہے۔ بدی پر فوراً پکڑ نہیں۔ توبہ کے دروازے موت تک کھلے ہیں۔ یہ سب قوانین رحمت ہی پر مبنی ہیں، لیکن اگر کوئی خود ہی ان قوانین سے فائدہ نہ اٹھائے تو اس کی مرضی۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت بے حد و بے حساب، لامحدود اور بے پایاں ہے۔ نہ کوئی اور ہستی لامحدود ہے، نہ کسی کی رحمت لامحدود ہو سکتی ہے۔ حق تعالیٰ کے بعد اگر کسی کی رحمت ہے تو وہ جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت ہے اپنے امتیوں کیلئے۔ ہاں بات کو سمجھنے سمجھانے کیلئے ہم باپ کی رحمت کی مثال دے سکتے ہیں جو اسے اپنی اولاد سے ہوتی ہے۔
خالق حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات برکات ہے لیکن اولاد کی تخلیق باپ کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ حقیقی رازق اللہ تعالیٰ ہے لیکن اولاد کو رزق باپ کے ذریعہ پہنچتا ہے۔
حقیقی محافظ اللہ تعالیٰ ہے لیکن اولاد کی حفاظت باپ کے ذریعہ سرانجام پاتی ہے۔ باپ اپنی اولاد کیلئے سرتاپا رحمت ہوتا ہے۔ ایک باپ اپنی اولاد کی تربیت کیلئے اسے اچھے سے اچھے سکول میں داخل کرائے۔ گھر پر بہترین استاد رکھ کر دے۔ اچھی سے اچھی کتابیں لا دے۔ فیسیں ادا کرے۔ لیکن اگر کوئی بچہ پھر بھی نہ پڑھے اور اپنے آپ کو تعلیم و تربیت سے محروم رکھے تو یہ اس کی مرضی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں