رحمت بے پایاں … (۲)

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 13 ستمبر ، 2009
شیخ محی الدین ابن عربی فصوص الحکم میں لکھتے ہیں:
’’ایک رحمت خالص ہے، جیسے دنیا میں لذیذ اور پاکیزہ غذا۔ یہ حق تعالیٰ کے اسم الرحمٰن سے صادر ہوتی ہے، اس لئے عطائے رحمانی ہے۔ دوسری رحمت رنج سے مخلوط ہوتی ہے۔ جیسے کڑوی دوا پینا کہ اس کے پینے کے بعد صحت اور رحمت ہوتی ہے۔ یہ عطائے الہٰی ہے‘‘…
’’عطائے رحمانی ان آمیزشوں سے پاک ہوتی ہے جو اس حال میں بندہ کی طبیعت کے مخالف ہوں۔ یہ ان امور سے بھی پاک ہوتی ہے، جو غرض حاصل ہونے سے مانع ہوں۔
یہ رحمت ہر قسم کے نقصانات سے پاک ہے۔ کبھی حق تعالیٰ جل شانہ، اپنے اسم الواسع کے ذریعہ سے رحمت فرماتے ہیں۔ اس میں بندے کے اس وقت کے احوال کی مصلحتوں پر نظر ہوتی ہے۔
کبھی حق تعالیٰ اپنے اسم الوہاب کے ذریعہ سے رحمت فرماتے ہیں۔ یہ عطا صرف راحت کیلئے ہوتی ہے۔ جس پر یہ رحمت صادر ہوتی ہے وہ اس کے عوضانہ کے عمل کا مکلّف نہیں ہوتا۔
کبھی حق تعالیٰ اپنے اسم الحی کے واسطہ سے رحمت فرماتے ہیں۔ اس رحمت کے دوران (موقع) محل اور بندہ کے استحقاق پر نظر ہوتی ہے۔
کبھی بندہ پر حق تعالیٰ جل شانہ، اپنے اسم الغفار کی معرفت رحمت فرماتے ہیں۔ اس وقت بندہ کے احوال اور موقع کی مصلحت پر نظر ہوتی ہے۔ اگر وہ بندہ اس وقت ایسی حالت میں ہے جو قابل مواخذہ ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس رحمت کے ذریعہ اس کی سزا سے بچا لیتے ہیں اور اگر وہ ایسی حالت میں ہے جو قابل سزا نہیں، تو اس رحمت کے ذریعہ اسے ایسی حالت میں گرنے سے بچا لیا جاتا ہے جو قابل سزا ہو۔ اس رحمت سے وہ بندہ گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
ان کے علاوہ اور رحمتیں بھی ہیں۔ ان سب کا خازن اللہ تعالیٰ ہے وہی انہیں اپنے بندوں پر اندازے کے مطابق معین فرماتا ہے۔
’’سورہ الزخرف میں فرمایا:
’’اور تیرے رب کی رحمت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘ (3: 157)
سورہ الانعام میں فرمایا:
’’تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔‘‘
سورہ الاعراف میں فرمایا:
’’اور میری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے۔‘‘
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter