تازہ ترین:

جہاد و شہادت

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 13 جنوری ، 2012
قرآن پاک میں ارشاد ہے .... ”اور جو اللہ (تعالیٰ) کی راہ میں قتل ہو جائیں‘ انہیں مردہ نہ ہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں (ان کی زندگی کی) سمجھ نہیں“
”اور وہ جو اللہ (تعالیٰ) کی را ہ میں قتل ہو جائیں ان کے بارے میں یہ گمان نہ کرو کہ وہ مر گئے ہیں (نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس اور رزق پاتے ہیں اور اللہ (تعالیٰ) نے انہیں اپنے فضل سے جو عطا فرمایا ہے اس پر (شاداں و) فرحاں ہیں....“ (170` 169 :3)
حضور اکرم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنے والا ایسا ہے جیسا کہ روزہ رکھنے والا عبادت گزار‘ جو روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے سے کبھی نہیں تھکتا۔ جب تک وہ جہاد سے واپس نہ آ جائے“ (بخاری و مسلم)
”جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں یعنی جہاد میں زخمی ہوا‘ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہوگا۔ اس کا رنگ خون جیسا ہوگا مگر اس کی خوشبو کستوری کی ہوگی“ ۔”اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جانا ہر گناہ کو مٹا دیتا ہے‘ مگر قرض کو نہیں“ (مسلم)
حضوراکرم کے ارشاد کے مطابق جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں شہداءسرفہرست ہیں۔ پھر وہ جو حرام سے بچتے ہیں۔ پھر وہ غلام (یا خادم) جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی خوبی سے کی اور اپنے مالک کا خیر خواہ بھی رہا۔ (ترمذی)
جناب رسالتماب نے فرمایا جو لوگ جہاد میں قتل ہوتے ہیں ان کی تین قسمیں ہیں
(1) ایک تو وہ مومن کامل جو اپنی جان اور اپنے مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے اور شہید ہو جائے یہ شخص اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ تعالیٰ کے خیمہ میں ہوگا اور انبیاءصرف درجہ نبوت میں اس سے بڑھ کر ہوں گے۔ (2) دوسرا وہ مومن جس کے اعمال ملے جلے ہوں (کچھ اچھے کچھ برے) وہ دشمن سے مقابلہ میں شہید ہو جائے۔ اسکی شہادت اس کے گناہوں اور خطاﺅں کو مٹا دیتی ہے وہ جس دروازے سے چاہے گا‘ جنت میں چلا جائیگا۔ (3) تیسرا وہ منافق جو دشمن سے مقابلہ میں خوب لڑا اور مارا گیا۔ یہ شخص دوزخ میں جائے گا کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی (دارمی)
انصار کے قبیلہ بنی عبدالا شھل کے فرد عمرو بن ثابت ”ایصرم“ مشہور تھے۔ غزوہ احد سے پہلے تک اسلام نہیں لائے تھے‘ احد کے دن باہر سے آئے تو اپنے قبیلہ کے گھر خالی پائے۔ پوچھا تو معلوم ہوا کہ سب غزوہ کےلئے احد کی جانب جا چکے ہیں۔ یہ بھی فوراً ان کے پیچھے میدان جنگ میں پہنچ گئے۔ لڑائی جاری تھی۔ اسلام قبول کیا اور جنگ میں کود پڑے۔ بے جگری سے لڑے اور شہید ہوگئے۔ حضور اکرم نے فرمایا ”یقیناً وہ اہل جنت سے ہے“ انکے قبیلہ کے لوگ ہمیشہ ان پر فخر کرتے تھے کہ انہوں نے سوائے جہاد کے اور کوئی نیک عمل نہیں کیا اور جنت میں داخل ہوئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter