تازہ ترین:

سورة فاتحہ

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 13 دسمبر ، 2011
یہ سورہ قرآن پاک کی افتتاحی سورہ بھی ہے اور قرآن پاک کے مضامین کا ملخص بھی۔ پہلی تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں اور ساتھ ہی آخرت کا مذکور بھی ہے اور جیسا کہ سب جانتے ہیں توحید اور آخرت کا عقیدہ ہی ہر آسمانی مذہب کی بنیاد ہے۔ درمیان میں صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا سکھائی۔ کیونکہ صراط مستقیم ہی اصل چیز ہے۔ اسی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تک رسائی ہوتی ہے۔ سورہ ہود میں فرمایا : یقیناً میرا رب صراط مستقیم پر ہے۔ “ آخر میں فرمایا کہ صراط مستقیم کی نسبت سے انسان تین گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ (۱) وہ جو صراط مستقیم پر چل کر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور انعامات سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ (۲) وہ جو اس کی مخالفت کرکے اللہ تعالیٰ کے غضب میں آ جاتے ہیں۔ (۳) وہ جو اسے پا کر پھر گم کر دیتے ہیں۔
سور ہ النساءمیں فرمایا (ترجمہ) اور جس کسی نے اطاعت کی اللہ تعالیٰ کی اور رسول پاک کی تو یہی لوگ ان کے ساتھ ہوں گے۔ جن پر اللہ (تعالیٰ )نے انعامات فرمائے۔ انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین اور یہ بہترین ساتھی ہیں۔ “ گویا صراط مستقیم پر چلنے والے حضرات متذکرہ صدر چار گروہوں پر مشتمل ہیں‘ اور اب صراط مستقیم کی راہ یعنی شریعت محمدی ہے‘ بہ الفاظ دیگر آنجناب کی اطاعت ہی صراط مستقیم ہے۔
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ کی تین خاص صفات کا بیان ہے۔ ربوبیت، رحمت اور عدل ربوبیت ہی کے اندر اخلاقی صفت بھی آ گئی۔ پہلے تخلیق فرماتے ہیں۔ تب انکی ربوبیت اور پرورش اور نشو و نما کے مراحل آتے ہیں۔ رحمت کےلئے دو الفاظ الرحمان اور الرحیم لائے ہیں۔ رحمت کے خزانے بھی لا انتہا اور لازوال ہیں اور ا نہیں لٹاتے بھی خوب ہیں۔ سورہ الانعام میں دوبار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ رحمت ہی تخلیق کا باعث بنی۔ ربوبیت بھی رحمت ہی کا اظہار ہے۔ ہدایت بھی رحمت ہی کاتقاضا ہے۔ انصاف کے دن کے مالک میں قیامت کا اعتقاد بھی آ گیا اور اسکے بعد اچھے اعمال والوں کو جنت میں اپنی خاص نعمتوں سے نوازنے کا تصور بھی آ گیا۔ اس کے بعد بندوں کو یہ دعا سکھائی !۔ ہم صرف آپکی عبادت کرتے ہیں اور صرف آپ سے مدد چاہتے ہیں۔ اس کےساتھ ہی یہ دعا بھی سکھائی کہ ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت دیں۔ اس دعا میں بندے کا جو طرز عمل ہونا چاہئے اسکے بارے میں فرمایا کہ وہ صرف اللہ تعالٰی کی عبادت کرے۔ (اور عبادت میں فرمانبرداری داخل ہے )‘ اور صرف انہی سے ہدایت کا طلب گار رہے۔ سورہ الفاتحہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔ اس دعا کے ذریعہ ہم اللہ تعالیٰ سے عہد کرتے ہیں کہ صرف انہی کی عبادت کریں گے اور صرف انہی سے اعانت طلب کریں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter