سورہ ہودؑ…(۲)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 12 جنوری ، 2010
آیہ 6 سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان ہے:
’’6۔ اور روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں‘ مگر اسکا رزق اللہ (تعالیٰ) کے ذمہ ہے۔ اور اللہ (زندگی میں) اسکے مسکن اور (موت کے بعد) اسکے سونپے جانے کی جگہ جانتا ہے۔ہر بات کتاب مفصل (لوح محفوظ) میں موجود ہے۔
’’7۔ اور وہی ہے‘ جس نے آسمانوں اور زمین (کائنات) کوچھ ایام (ادوار) میں تخلیق کیا۔ اور اسکا تخت (حکومت) پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے‘‘۔
دوسری جگہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک یوم ہماری گنتی کے پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔ (4:70)۔ نیز فرمایا کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ (30-21)
اوپر کے جملہ میں تخلیق حیات اور مقصد دونوں آگئے۔ جب انسانی زندگی سے مقصود یہ دیکھنا ہے کہ کون نیک عمل کرتا ہے‘ توپھر یہاں کئے گئے اعمال پر انکے مطابق نتائج بھی مرتب ہونے چاہئیں۔ اس کیلئے لازمی ہے کہ موت کے بعد اور زندگی ہو‘ جہاں مراتب کا دار و مدار یہاں کئے گئے اعمال پر ہو۔ ’’اور اگر آپؐ ان(کفار) سے کہیں کہ تم موت کے بعد زندہ کئے جائو گے‘ تو کافر ضرور کہیں گے: یہ تو صریح جادو (کی سی بات) ہے (کہ مردے زندہ ہوجائیں)‘‘۔
آگے فرمایا کہ ہم نے تو اپنی رحمت کے سبب اس دنیا میں قانون مہلت نافذ کر رکھا ہے۔ افراد یا اقوام کی فوراً گرفت نہیں ہوتی۔ مگر یہ لوگ الٹا باتیں بناتے ہیں۔
آگے فرمایا کہ صرف کفار ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ناشکرگزار نہیں‘ بلکہ عام طور سے انسان کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے بہرہ ور کرکے پھراپنی نعمت واپس لے لیں۔ تو وہ مایوس اورناشکرا ہو جاتا ہے… مثلاً وہ کہنا شروع کردیتا ہے: میں نے تو کبھی اچھے دن دیکھے ہی نہیں۔ یا اب کبھی میرے حالات بدلیں گے ہی نہیں اور اگر تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ اسے نعمت سے نوازیں‘ تو پھر وہ لاپرواہ ہو جاتا ہے اور اچھے حالات پر شیخی بگھارنے لگتا ہے۔ غرور میں آجاتا ہے اور ڈینگ مارتا ہے اور نعمت کا باعث اپنی کوشش یا تدبیر کوقرار دیتا ہے۔ آیہ 9 میں فرمایا: ہم رحمت اپنی طرف سے عطا فرماتے ہیں‘ تو انسان کے حالات اچھے ہوجاتے ہیں۔ رحمت کی نظر ہٹا لیتے ہیں‘ تو اسکے حالات خودبخود خراب ہو جاتے ہیں۔ آیہ 10 کا بھی یہی اندازہے کہ حق تعالیٰ کی نظر رحمت نہ رہے‘ تو لوگ اپنے حالات خود ہی خراب کرلیتے ہیں۔ ’’اور اگرہم انسان (پہلے) اپنی طرف سے رحمت کا مزدہ چکھائیں‘ پھر اسے اس سے واپس لے لیں‘ تو وہ مایوس اور ناشکرا ہو جاتا ہے۔‘‘
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں