بھوک اور خوف

نُورِ بَصیِرتْ ـ 12 فروری ، 2009
’’سورۃ القریش‘‘ میں قریش مکہ سے فرمایا کہ:
بیت اللہ شریف کی تولیّت کے باعث کوئی بھی ان کے جاڑے اور گرما کے دونوں تجارتی قافلوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ پس انہیں چاہئے کہ وہ اس گھر (بیت اللہ شریف) کے مالک کی عبادت کریں جو انہیں بھوک سے (بچاتا ہے اور) کھانا کھلاتا ہے اور خوف سے امن میں رکھتا ہے۔
سورہ ’’النحل‘‘ میں فرمایا :
’’اور اللہ مثال بیان کرتا ہے ایک بستی کی جو امن و اطمینان سے تھی۔ اسے ہر طرف سے اس کا رزق بکثرت پہنچتا تھا پھر اس نے اللہ پاک کی نعمتوں کی ناشکری کی پھر (مزہ) چکھایا اللہ نے اسے بھوک اور خوف کے لباس کا‘ بسبب اس کے جو کارستانیاں وہ کرتے تھے‘‘ (112)
گویا بھوک اور خوف سے بچے رہنا اللہ کا خاص انعام ہے۔ اس کی قدر کرنی چاہئے۔ ناشکری نہیں کرنی چاہئے‘ ناشکری کرنے سے نعمت چھن جاتی ہے۔ ناشکری یہ ہے کہ اللہ پاک سے لاپروا ہو جائے۔ احکام الہی کی خلاف ورزی پر دلیر ہو جائے‘ رزق وافر ہو تو اللہ پاک کی قائم کردہ حدود کو توڑنا شروع کر دے۔ اللہ پاک کی حرام کی ہوئی اشیاء کا بے دریغ استعمال شروع کردے‘ ایسے کاموں کے باعث برکت اٹھ جاتی ہے اور سب کچھ ہوتے ہوئے بھی روزی تنگ ہو جاتی ہے فراوانی بھی ہو تو دل کے اندر تنگی کا احساس رہتا ہے۔
سورۃ ’’طحٰہ‘‘ میں فرمایا:
’’اور جس نے میری یاد سے منہ موڑا‘ اس کیلئے معیشت کی تنگی ہے اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے‘ (124)
اس سے مراد یہ ہے کہ ذکر الہی سے دل زندہ ہوتے ہیں‘ اور ان میں بینائی پیدا ہوتی ہے‘ جو ذکر سے محروم ہے وہ قلب کی بنیائی سے بھی محروم ہے یہاں تو اس کا اندھا پن چھپا رہتا ہے مگر قیامت کے روز ظاہر ہو جائے گا‘‘
ضمناً یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسلامی حکومت کا اصل کام لوگوں کو بھوک اور خوف سے بچانا ہے۔ کوئی بھوکا نہ رہے کسی کی عزت و آبرو اور جان و مال غیر محفوظ نہ ہو۔
حضرت فاروق اعظمؓ نے ایک بار فرمایا کہ: اگر اس مملکت میں کوئی جانور بھی بھوک سے مر جائے تو وہ میری کوتاہی ہے۔ ایک بڑھیا نے تنگ دستی کی شکایت کی تو اسے فرمایا:
’’کیا تو نے کبھی عمرؓ تک اپنی تکلیف پہنچائی۔ اس نے جواب دیا :
’’حکمران کو خود معلوم کرنا چاہئے۔ اس پر آپؓ نے سر جھکا لیا‘‘ ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter