فتنوں کا پس منظر
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 10 فروری ، 2009
محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں… ’’فتنہ و فساد کے طوفان پر نظر ڈالنے سے بعض قابل غور اہم امور سامنے آتے ہیں‘‘۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو فتنہ اٹھا‘ بڑی تیزی سے اٹھا۔ اسود عنسی یمنی نے بڑے تھوڑے عرصہ میں ملک کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا اور اس کی حکومت مکہ مکرمہ اور طائف تک پھیل گئی۔ مسیلمہ اور طلیحہ نے بھی غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ مسیلمہ‘ طلیحہ اور نقیط تینوں ایسے موقع کی تلاش میں تھے‘ جب وہ باقاعدہ بغاوت کا اعلان کر کے اسلامی حکومت کا تختہ الٹ سکیں۔ ابتدا میں ان تینوں نے جناب رسالت مآب ﷺ کی مخالفت کئے بغیر اپنا پراپیگنڈہ شروع کیا۔ تینوں کا دعویٰ تھا کہ انہیں بھی اپنی اپنی قوم کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔
حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد ان فتنوں کی آگ بھڑک اٹھی اور یہ آگ چاروں طرف پھیلنے لگی۔ اس فتنے کے اسباب بھی مختلف علاقوں میں علیحدہ علیحدہ تھے۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں ارتداد کا فتنہ پھیلا‘ وہ تہذیب و تمدن اور دولت و ثروت کے لحاظ سے سارے عرب میں نمایاں تھے۔ ان مدعیان نبوت کی عارضی کامیابی میں بعض اور عناصر بھی کارفرما تھے۔ مثلاً اسود عنسی کی کامیابی کی بڑی وجہ اہل یمن کی اہل حجاز سے سخت نفرت تھی۔ مسیلمہ اور طلیحہ نے بھی اپنی اپنی قوم کی عصبیت کو بھڑکایا۔ ’’یمن کی بغاوت نے بنی یمامہ اور بنی اسد کو اسلامی حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات دلائی ورنہ ابتدا میں وہ علم بغاوت بلند کرنے سے خائف تھے‘‘۔ اس پس منظر میں سیدنا ابوبکر ؓ نے صرف سوا دو برس کی قلیل مدت میں ان تمام فتنوں کا مکمل استیصال کر دیا‘ بلکہ اس دور کی دو سپر پاورز ایران اور روما کی سرحدوں پر ان کی فوجوں نے کامیاب پیش قدمی بھی شروع کر دی۔ پہلا معرکہ مدینہ منورہ کے نواحی قبائل عبس اور ذبیان سے پیش آیا۔ یہ لوگ زکوٰۃ دینے سے انکار کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر ؓ نے فرمایا واللہ! میں صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں فرق کرنے والوں کے خلاف ضرور جنگ کروں گا۔ اگر وہ اس مال میں سے جو حضور اکرم ﷺ کے دور مبارک میں بطور زکوۃ ادا کرتے تھے‘ اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی معمولی رسی دینے سے انکار کریں گے‘ تو میں انکے خلاف بھی جہاد کروں گا۔ حضور ﷺ کے دور مبارک میں طائف کے ایک وفد نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں صلوٰۃ معاف کر دی جائے مگر آنجناب ﷺ نے یہ فرما کر اسے رد کر دیا تھا کہ ’’اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں صلوٰۃ نہیں‘‘۔ اس وقت جب حضرت اسامہ ؓ کا لشکر مدینہ منورہ سے باہر دور شام کی سرحدوں پر لڑائی میں مصروف تھا‘ نواحی قبائل سے جنگ چھیڑ دینا بظاہر مصلحت کے خلاف نظر آتا تھا مگر سیدنا ابوبکر ؓ کے ایمان محکم اور آہنی عزم کے سامنے کسی مصلحت کی کوئی وقعت نہ تھی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں