عشق الٰہی

ـ 9 ستمبر ، 2009
نُورِ بَصیِرت±
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
”اور جو ایمان لائے، اللہ کے لئے ان کی محبت بہت شدید ہے۔“
شدید محبت ہی کو عشق کہتے اور یہی اولیاءاللہ کی پہچان ہے۔
عشق الہٰی پنجابی شاعری کا طرہ امتیاز ہے۔ کسی اور زبان میں اس مضمون پر مشکل ہی سے پنجابی کے ہم پلہ اشعار ملیں گے۔ بالخصوص بزرگ صوفیا نے اس موضوع پر جو اشعار کہے ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔
حضرت سلطان باہوؒ کے چند اشعار دیکھیں....
عاشق ہکو وضو کیتا جو روز قیامت تائیں ہو!!
وچ رکوع نماز سجودے رہندے سنج صباحیں ہو،
ایتھے اوتھے دوہیں جہانیں سب فقر دیاں جائیں ہو!
عرش کولوں سَے منزل اگےّ باہو، ونج پیا کم تنہائیں ہو،
ترجمہ:
عاشق نے ایک ہی وضو کیا ہے۔ (یعنی عشق کا وضو) جو قیامت تک رہتا ہے۔ عاشق و شام یعنی ہر دم نماز عشق میں مصروف ہے۔ یہاں اور وہاں، دونوں جہانوں میں فقر اپنا مقام رکھتا ہے۔ عاشق عرش سے کئی سو منزل آگے تنہائی میں ہے۔
غوث قطب نے اُرے اریرے، عاشق جان اگیرے ہو،
جیہڑی منزل عاشق پہنچے اوتھے غوث نہ پاندے پھیرے ہو
عاشق وچ وصال دے رہندے جنہاں لامکانی ڈیرے ہو
میں قربان تنہاں تو باہو، جنہاں ذاتوں ذات بسیرے ہو
ترجمہ:
غوث قطب یہیں قریب ہی رہتے ہیں اور عاشق آگے پہنچ جاتے ہیں۔ جس منزل پر عاشق پہنچتے ہیں، وہاں تک غوثوں کی رسائی نہیں۔ عاشق کو لامکان میں اللہ تعالیٰ کا وصال حاصل ہے۔
اے باہو، میں ان لوگوں پر قربان! جو حق تعالیٰ کی ذات سے وصال میں ہیں....
عاشق پڑھن نماز پریم دی، جیں وچہ حرف نہ کوئی ہو
جیہا کیہا نیت نہ سّکے، اوتھے درد منداں دی ڈھوئی ہو
اکھیں نیر تے خون جگر دا اوتھے وضو پاک کر یوئی ہو،
جیبھ نہ ہلے تے ہونٹھ نہ پھڑکن باہو خاص نمازی سوئی ہو
ترجمہ:
عاشق نماز عشق ادا کرتے ہیں یہ ایسی نماز ہے، جس میں کوئی الفاظ نہیں۔ ہر کوئی یہ نماز شروع نہیں کر سکتا۔ اس تک صرف درد دل والوں کی رسائی ہے۔
اس کے لئے آنکھوں کے آنسو¶ں اور خون جگر کے ساتھ وضو کرنا پڑتا ہے۔ نماز عشق وہی صحیح طور سے ادا کرتا ہے، جس کی زبان نہ ہلے، اور ہونٹوں میں جنبش پیدا نہ ہو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter