تازہ ترین:

کلام اللہ کی بلاغت

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 9 مارچ ، 2011
قرآن پاک علم و حکمت کا بحر ذخار ہے۔ جو چاہے اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق اس کے اندر سے موتی نکال کر ان سے اپنی یہ دنیا سجائے اور موت کے بعد کی زندگی خوشنما بنائے کائنات کے سارے عمل کو تین الفاظ میں بیان فرما دیا۔ خلق‘ فقدر‘ فہدیٰ ہر شے کی تخلیق فرمائی۔ پھر اسے آگے بڑھنے کی رہنمائی عطا کی۔ کہیں یہ راہ نمائی قوانین فطرت کی صورت میں ہے کہیں حیوانی جبلتوں کی صورت میں‘ کہیں انسانی فہم کی صورت میں اور کہیں وحی کی صورت میں۔
ایک جگہ فرمایا ”ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔“ سائنس دان بڑی محنت کے بعد اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا ”آسمان موجودہ صورت سے پہلے دخان یا دھواں تھا“۔ اب اسی بات کو سائنس دان یوں پیش کرتے ہیں کہ اجرام سماوی دھوئیں جیسے نیبولائی مادے سے وجود میں آئے تھے۔ سورہ یٰسین میں فرمایا کہ سورج اپنے مستقر کی طرف جا رہا ہے۔ پہلے سائنس دان سورج کو ساکن بتاتے تھے‘ اب کہتے ہیں کہ وہ اپنے سیاروں کے خاندان سمیت کسی نامعلوم سمت کی جانب بڑھ رہا ہے۔
فرمایا کہ دولت صرف دولت مندوں ہی میں گردش نہ کرتی رہے اس میں ساری اقتصادیات کا نچوڑ آگیا۔ اولٰی الامر یا حکمران کی اطاعت کو جناب رسالت مآب کی اطاعت کے تابع کر دیا۔ اس میں ساری سیاست آگئی۔ سمع‘ بصر اور فواد (ذہن) کو حصول علم کے تین ذرائع بیان فرمایا۔ علم کی مزید وضاحت کے لئے فرمایا کہ یہ ظن یا اٹکل پچو اندازے لگانا نہیں۔ نہ من پسند بات گھڑ لینا ہے۔ گویا علم وہ ہے جو حقائق پر مبنی ہو۔ نیز فرمایا کہ جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ لگ۔ یہی علمی یا سائنٹفک طرز عمل ہے۔
انسانوں کے رنگ‘ لباس اور زبان کے فرق کو اپنی آیات فرمایا۔ تاریخ انسانی کو معاشروں کی تاریخ کے لحاظ سے بیان فرمایا اور اسے آیات الٰہی میں سے ایک آیت میں فرمایا خاندان‘ دولت اور اقتدار کے تعصب کو مٹایا۔ تقویٰ کو عزت کا باعث قرار دیا۔
سورة النور میں جب یہ حکم دیا کہ اپنے پردے کی جگہوں کی حفاظت کرو تو اس سے قبل نگاہیں نیچی رکھنے کیلئے فرمایا۔ گویا فرما دیا کہ نگاہیں نیچی رکھو گے تو جنسی جذبہ پر کنٹرول آسان ہو جائے گا۔ پھر یہی حکم عورتوں کو دیا تو اور انداز سے۔ سورة بنی اسرائیل میں جب یہ فرمایا کہ اگر تم میں خیرات کرنے کی استطاعت نہ ہو تو سائل کو نرمی سے سمجھا دو تو اسے یوں فرمایا:
”اور اگر تو ان (ضرورت مندوں) سے اعراض کرے (کیونکہ) تو اپنے رب کی رحمت کا جویا اور (اس کے فضل کا) امیدوار ہے‘ تو ان سے نرمی سے بات کرو۔ (آیہ۲۸)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter