تازہ ترین:

شکر گزاری .... (۱)

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 9 جنوری ، 2012
بعض لوگ زندگی کو اپنے لئے بوجھ اور دوسروں کےلئے مصیبت بنائے رکھتے ہیں۔ اس بیماری کا علاج شکر گزاری ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہم پر اتنے احسانات ہےں کہ اگر دنیا کے سارے درختوں کے قلم بنا لئے جائیں اور سات سمندر سیاہی میں تبدیل ہو جائین تو بھی اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تذکرہ ختم نہ ہو۔ ہماری بقاءکےلئے ہر قسم کی غذا مہیا فرمائی۔ زمین میں اجناس اور پھل اگانے کی صلاحیت رکھی۔ آسمان سے پانی اتارا۔ زمین کے اندر سے پانی کے چشمے جاری کر دئےے۔ پانی میں یہ تاثیر رکھی کہ اسکی برکت سے مٹی کے اندر سے سبزہ اور سبزیاں‘ پھل اور اجناس پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی شعاعوں میں یہ قوت رکھی کہ وہ انہیں بڑھاتی اور پکاتی ہےں۔ جو کچھ ہم کھاتے ہیں اسی کے دئےے ہوئے میں سے کھاتے ہیں‘ اس کا جتنا شکر بجا لائیں کم ہے۔
پانی بھی کیا چیز بنا دی۔ دو ہواوں کا مرکب ہے، مگر ان سے مختلف اور تاثیر میں زندگی بخش۔ پی لو پیاس بجھ جائے۔ نہا لو تو تازہ دم ہو جاو۔ بدن کے کپڑے دھو لو، تو غلاظت ختم۔ کھیتوں اور باغوں کو سیراب کر لو تو غذا پا لو۔ پھر اسے عام کر دیا۔ دریا بہا دئےے۔ چشمے نکالے۔ بارش سے پانی برسایا۔ زمین کے اندر پانی رکھ دیا۔ ذرا کھودو اور میٹھے پانی کا کبھی ختم نہ ہونےوالا ذخیرہ پا لو۔
سانس لینے پر زندگی موقوف ہے اور ہر دم سانس لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہوا کو عام کر دیا۔ جہاں جائیں پاکیزہ ہوا موجود ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم نے ترقی کر کے ہوا کو آلودہ اور پانی کو غلیظ کر دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اجناس کو بھی زہریلی کھادوں سے زہرناک بنا لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کےلئے یہ کائنات تخلیق فرمائی، جس میں ہر طرف حسن ہی حسن ہے۔ہر انسان اس کی حسین آغوش میں آنکھ کھولتا ہے۔ اسکے شفقت آمیز ماحول میں اپنی صلاحیتوں کوچمکاتا اور پروان چڑھاتا ہے اور پھر یہیں اپنی قوتوں کو بروئے کار لا کر اپنی شخصیت کی تکمیل کرتا ہے۔
اس کےلئے دن ہنگامہ آرائیوں کا پیغام لاتے ہیں اور راتیں سکون آفرینیوں کا۔ ہر روز ایک سجیلی اور حسین صبح اسکے خیرمقدم کےلئے موجود ہوتی ہے۔ ہر چاشت اسے دعوت عمل دیتی ہے۔ ہر دوپہر اسے ترقی کے نصف النہار کی طرف بلاتی ہے۔ ہر شام اپنی تمام رنگینیوں کےساتھ اسے رخصت کرنے آتی ہے تاکہ وہ رات کو آرام کر کے اگلی صبح کے لئے تیار ہو جائے۔
انسان باہر نکلتا ہے تو پھول اس کےلئے جنت نگاہ بنتے ہیں درخت اس کےلئے سایہ مہیا کرتے ہیں۔ پودے اسے پھل پیش کرتے ہیں۔ حیوانات سواری کےلئے حاضر ہو جاتے ہیں۔ بلند پہاڑ اسکی تعظیم کےلئے مستعد کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter