مصارف زکوٰۃ
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 8 ستمبر ، 2009
سورۃ التوبہ میں فرمایا ’’ زکوٰۃ صرف فقرائ‘ مساکین‘ زکوٰۃ وصول کرنیوالوں‘ مولفۃ القلوب‘ قیدیوں‘ مصیبت زدگان‘ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور مسافروں کیلئے ہے۔‘‘ ۱۔ فقراء سے مراد مفلس لوگ ہیں۔ یہ لفظ غنی کے مقابلے میں بولا جاتا ہے۔ اصطلاحاً ہم کہہ سکتے ہیں ایسے لوگ جن پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ ۲۔ مساکین وہ حاجت مند ہیں جو بالکل خالی ہاتھ ہوں۔ ۳۔ محکمہ زکوٰۃ کے عملہ کو زکوٰۃ کے فنڈ میں سے تنخواہ دی جا سکتی ہے۔ ۴۔ نو مسلموں کو تالیف قلوب کیلئے زکوٰۃ میں سے دینا چاہئے‘ بالعموم اس مد کو بالکل نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ موجودہ حالات میں اس پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ بہت سے عیسائی جو اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر اسے قبول کر لیتے ہیں‘ کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ انکے عزیز و اقارب انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ مسلمانوں کی طرف سے انکی کوئی امداد نہیں کی جاتی۔ زکوٰۃ کے فنڈ سے انکی امداد کرنی چاہئے اور بھرپور امداد کرنی چاہئے۔ ہند میں کئی سو برس مسلمانوں کی حکومت رہی اگر اس دوران اچھوتوں کو اسلام کی طرف لانے کیلئے اقدامات کئے جاتے اور زکٰوۃ کے فنڈ سے اس مقصد کیلئے خاص محکمہ قائم کردیا جاتا اور نو مسلموں کی مدد کی جاتی تو آج اس برعظیم میں مسلمانوں کی اکثریت ہوتی۔ پاکستان میں بھی ہم اسی کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کوئی جماعت غیر مسلموں میں تبلیغ کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہی۔ ۵۔ ’’رقاب‘‘ میں غلام شمار ہوتے تھے۔ اب غلامی کا دور نہیں۔
اب اس مد میں وہ لوگ شمار ہو سکتے ہیں جو قرضہ ادا نہ کر سکنے کے باعث قید ہو جائیں یا جنگ کے دوران قید ہو جائیں۔ ۶۔ ’غارمین‘‘ سے مراد مصیبت زدگان ہیں۔ مثلاً سیلاب یا قحط کا شکار‘ یا جو جنگ کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہوں۔ ۷۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں بھی اس مد سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے جہاد اور تبلیغ دین مراد لی جاتی ہے۔ اہل کشمیر کو جو جہاد میں مصروف ہیں‘ زکوٰۃ میں سے رقوم دی جا سکتی ہیں۔ ۸۔ وہ مسافر جو زاد راہ سے محروم ہوں‘ زکوٰۃ میں سے انکی امداد بھی کی جا سکتی ہے۔ کئی ایسے غیر ملکی نظر آتے ہیں جنکے پاس خرچ کیلئے کچھ نہیں ہوتا‘ اگر ان کیلئے مناسب رہائش گاہیں تعمیر کر دی جائیں جہاں انہیں اسلام سے بھی متعارف کرایا جائے‘ حکمت اور موعظہ حسنہ سے‘ تو اس سے پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہو گا۔ حضور اکرمؐ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا‘ اس نے عرض کیا! زکٰوۃ کے مال میں سے کچھ مجھے بھی عطا فرمائیے۔ آنجنابؐ نے فرمایا! اللہ تعالیٰ نے زکٰوۃ کے مصارف کو نہ کسی نبی کی مرضی پر چھوڑا ہے نہ غیر نبی کی مرضی پر۔ انہیں خود مقرر فرما دیا ہے اور انکے آٹھ حصے کر دیئے ہیں۔ اگر تم ان آٹھ میں سے ہو تو میں تمہیں ( زکوٰۃ میں سے) دیدونگا۔ ایک اور حدیث شریف کیمطابق حضور اکرمؐ نے فرمایا صدقات لوگوں کے مال کا میل کچیل ہیں اور یہ محمدؐ اور آل محمدؐ کیلئے حلال نہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں