جرائم سے پاک معاشرہ
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 8 فروری ، 2010
جرائم کا سدباب اسی صورت میں ممکن ہے جب ہر فرد کے اندر جرائم کنٹرول بٹن موجود ہو‘ دوسرے‘ معاشرہ بحیثیت مجموعی جرائم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے اور ہمہ وقت ان کیخلاف کوشاں رہے۔
قرآن پاک تقویٰ کو مقصود حیات قرار دیتا ہے۔ سورہ البقرہ میں فرمایا: اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو‘ جس نے تمہیں اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا‘ تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ (سورہ البقرہ)
گویا تقویٰ عبادت کا مقصود ہے۔ روزوں کے رکوع کے آغاز میں فرمایا کہ رمضان المبارک کے مہینے کے روزے رکھو تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ حج کے بارہ میں فرمایا کہ زادراہ لے لیا کرو اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ نیز فرمایا کہ تقویٰ کا لباس بہترین لباس ہے۔ ایک حدیث شریف کے مطابق جب بندہ کو اس کی نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے‘ تب وہ ایمان کی حلاوت سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں تقویٰ یہ ہے کہ انسان کے اندر نیکی کا ذوق پیدا ہو جائے۔اسے برائی سے طبعاً نفرت ہو جائے۔ یہی وہ صورت ہے جب کہ اپنے اندر برائی کے خلاف کنٹرول پیدا ہو جاتا ہے اور یہ چیز ایمان اور تعلق باللہ کا ثمرہ ہے۔ قیامت کے روز حساب کتاب کا خوف بھی جرائم کے خلاف روک ثابت ہو سکتا ہے۔ قرآن پاک نیکی کو معروف اور بدی کو منکر کہتا ہے۔ (یعنی نیکی وہ ہے جسے سب پہچانتے ہیں اور بدی وہ جسے سب ناپسند کرتے ہیں) اور ہر مسلمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ تازیست نیکی کا حکم دیتا رہے اور برائی سے روکتا رہے۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ تم میں سے ایک ایسا گروہ ہو‘ جو یہ کام سرانجام دے۔ گویا عوام انفرادی لحاظ ہی سے نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بھی یعنی پرائیویٹ اداروں کے ذریعہ بھی یہ کام سرانجام دیں۔
سورہ ھودؑ کے آخر میں فرمایا کہ جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو صرف وہی لوگ بچتے ہیں جو آخری دم تک برائی کے خلاف جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔
سورہ الاعراف میں یہود کی ایک بستی کا ذکر ہے جس پر عذاب آیا اور وہی لوگ اس عذاب سے بچے جو برائی سے روکتے تھے۔ جو لوگ صرف خود برائی سے بچتے تھے ان کے بچائے جانے کا ذکر نہیں۔ حدیث شریف کے مطابق کسی بستی کو تباہ کر دینے کا حکم صادر ہوا۔
جبریل امین نے عرض کیا کہ اس میں فلاں شخص بھی ہے جو بہت عبادت گزار ہے اور جس نے کبھی آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی۔ حکم ہوا اسے بھی ساتھ ہی چلتا کرو کیونکہ اس کے سامنے ہمارے احکام کیخلاف ورزی ہوتی ہے‘ مگر اس کی پیشانی پر شکن تک نہیں پڑتی۔
گویا جو شخص برائی کیخلاف نفرت بھی نہیں رکھتا وہ ایمان سے خالی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں