پردہ … (۲)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 7 جولائی ، 2010
اصل بات یہ ہے کہ اسلام اس حجاب کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اسلام نہیں چاہتا کہ عورت کی حیا کی چادر اتار کر اسے اسکے فطری جوہر سے محروم کر دیا جائے۔
اب سورہ النور کی متعلقہ آیات درج کی جاتی ہیں۔
ترجمہ: مومنوں سے کہیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (بے باکی سے عورتوں کی طرف نہ دیکھیں) اور اپنے پردے کی جگہوں کی حفاظت کریں۔ یہ (طرز عمل) ان کیلئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ قرآن پاک کا یہ خاص انداز ہے کہ حکم دیتے وقت اسے بآسانی بجا لانے کا طریقہ بھی بتا دیتے ہیں۔ یہاں حکم یہ ہے کہ مرد اپنے جنسی جذبہ کی حفاظت کریں لیکن اس کا طریقہ بھی بتا دیا کہ اپنی نگاہ کی حفاظت کرو‘ جنسی جذبہ کی حفاظت کرنا آسان ہو جائیگا‘ فتنہ نگاہ ہی سے اٹھتا ہے باقی مراحل تو بعد میں طے ہوتے ہیں۔
اگلی آیت میں ارشاد فرمایا :
اور مومنات سے بھی کہیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پردے کی جگہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت (آرائش) آشکار نہ کریں سوائے اسکے جو اس میں سے ظاہر ہو اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں تک رکھیں اور کسی پر اپنی زینت ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہر کے یا اپنے باپ کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے شوہر کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا عورتوں کے یا اپنی لونڈیوں کے یا ایسے ملازمان کے جو جنسی جذبہ سے مبرا ہوں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے سے بے خبر ہوں۔ اور نہ عورتیں اپنے پائوں زمین پر اس طرح مار کے چلیں کہ انکی مخفی زینت جاتی جائے‘ اور اے مومنو (مرد و زن) تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھو تاکہ تم (جنسی جبلت کے مفاد سے) فلاح پائو۔ (آیہ ۱۳)
مردوں سے جب نگاہ اور جنسی جذبہ کی حفاظت کے بارے میں فرمایا تھا تو ساتھ یہ بھی فرمایا تھا کہ خیال رہے اللہ تعالیٰ تمہاری کاریگریوں سے بخوبی باخبر ہیں۔ قرآن پاک میں دوسری جگہ فرمایا کہ:
اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت کو بھی جان جاتے ہیں مگر عورتوں کو جب نگاہ اور جنسی جذبہ کی حفاظت کا حکم دیا تو یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری کاریگریوں سے باخبر ہیں۔ عورتوں سے ایسا کہنا شائستگی اور ذوق سلیم کے منافی ہوتا۔ عورتوں کو کچھ مزید احکامات دیئے جن میں سرفہرست یہ ہے کہ وہ اپنی زینت آشکار نہ کریں سوائے اسکے جو ظاہر ہو‘ اسی کو پردے کا حکم سمجھا گیا ہے۔
اس آیت پاک سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زینت دو قسم کی ہے ایک وہ جسے الاماظہر‘‘ کے ذریعہ مستثنیٰ کر دیا گیا ہے اور دوسری وہ جسے عام لوگوں سے چھپانے کا حکم ہے سوائے محرموں کے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں