تازہ ترین:

سورہ یونسؑ

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 5 اپریل ، 2011
آیہ 7 میں ارشاد ہے: اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور مطمئن ہیں اور وہ جو ہماری آیات سے غفلت برتتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے۔ بسبب انکے اعمال کے“
آجکل ہم لوگ بھی دنیا کی زندگی پر راضی اورمطمئن ہو چکے ہیں۔ ہمیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں ہمارا ٹھکانا بھی (اللہ تعالیٰ اس سے بچائیں) جہنم نہ ہو۔
آیہ 11 میں اپنا قانون مہلت بیان فرمایا کہ اس دنیا میں ہر شخص کو اس کی موت تک اوردنیا کو قیامت تک کیلئے مہلت ہے‘ اس لئے گنہگاروں پر فوری گرفت نہیں ہوتی‘ بلکہ انہیں مہلت دی جاتی ہے‘ تاکہ اگروہ چاہئیں تو اپنے غلط طرز عمل سے توبہ کرکے صحیح راہ کی طرف واپس آجائیں۔ آیہ 12 میں انسان کے عام طرز عمل کے بارے میں فرمایا :
جب انسان کو کوئی گزند پہنچتا ہے‘ تو وہ لیٹا بیٹھا‘ کھڑا ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اسکی تکلیف اس سے دور کر دیتے ہیں‘ تو وہ اس طرح گزرجاتا ہے جیسے اس نے تکلیف کے وقت ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ (ایسے لوگ مسرفین یعنی حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور (اس طرح ہم مسرفین کو انکے اعمال اچھے کر دکھاتے ہیں۔
ایک تو برے اعمال کرتے ہیں‘ دوسرے اپنے برے اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں۔ جو شخص اپنے برے اعمال کو اچھا سمجھنا شروع کر دے‘ اسکے انہیں چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ پھر برائی میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جہنم میں جاگرتا ہے۔ سورہ النساءمیں فرمایا کہ جدھر وہ مُڑتا ہے‘ ہم بھی اسے اسی طرف موڑتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی اس کی باگیں کھلی چھوڑ دی جاتی ہیں۔ اس کی رسی دراز ہو جاتی ہے۔ (آیہ 115)
آیہ 26 میں فرمایا: جو لوگ نیکی کرتے ہیں ان کیلئے نیک اجر اور زیادہ (انعام) ہے۔ نیز قیامت کے روز ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائی ہوگی‘ نہ ذلت یہی اہل جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اور وہ جو برائیاں کماتے ہیں (تو) برائی کا بدلہ اسی قدر ہے اور (قیامت کے دن) ان (کے چہروں) پر ذلت چھائی ہوگی (وہاں) اللہ تعالیٰ کے سوائے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ (انکے چہرے اس طرح سیاہ ہونگے‘ جیسے انہیں شب تاریک کا کوئی ٹکڑا اڑھا دیا گیا ہو۔ یہ لوگ اہل جہنم ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
آیہ 36 میں فرمایا کہ بعض لوگ ظن (اپنی اٹکل پچوسوچ) کو علم سمجھ کر اسکے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ ظن کا حق یعنی سچائی کی معرفت یا پہچان سے کچھ تعلق نہیں۔ آیہ 39 میں فرمایا بعض لوگوں کا انداز فکر یوں ہے کہ جو بات انکی سمجھ کے حاطہ میں نہ آئے‘ اسے (فوراً) جھٹلا دیتے ہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ بھی غیر علمی انداز ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter