تازہ ترین:

سورہ ہودؑ…(۱)

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 3 اپریل ، 2011
اس سورہ میں مختلف بدکردار قوموں کی تباہی کے حالات بیان کرنے کے بعد فرمایا’’تو کیوں نہ ہوئے ان قوموں میں سے جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں ایسے لوگ جن میں نیکی باقی تھی کہ وہ دوسروں کو فساد پھیلانے سے روکتے‘ سوائے (ان معدودے) چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا…‘‘
گویا جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے‘ تو صرف وہ لوگ بچتے ہیں‘ جو آخر وقت تک دوسروں کو برائی سے روکنے کا کام جاری رکھتے ہیں۔
آیہ 7 میں ارشاد ہے۔ ’’ اور (اللہ تعالیٰ) وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ایام میں تخلیق فرمایا۔ اور قبل ازیں) اسکا تخت حکومت پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘
قرآن پاک میں دوسری جگہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک یوم ہماری گنتی کے پچاس ہزار برس تک کا ہوتا ہے۔ (4-70) نیز فرمایا کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔
سب سے پہلے نوعؑ اوران کی قوم کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ ذرا انداز بیان دیکھئے۔
’’32…وہ (یعنی قوم نوحؑ کے لوگ )کہنے لگے۔ اے نوحؑ! تو ہم سے بحث کر چکا اور بہت بحث کر چکا۔ تو اب لے آ ہم پر (وہ عذاب) جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے‘ اگر تو سچا ہے۔
’’4… (وہ لوگ ایسے ہی مذاق کرتے رہے) یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور (میں سے پانی) نے جوش مارا۔ طوفان کا آغاز ہوگیا) ہم نے نوحؑ سے) کہا… سوار کرلے اس (کشتی) میں ہر نوع (حیوانات) کے نر و مادہ اور اپنے گھر والے‘ سوائے اس کے جس کے بارہ میں پہلے فیصلہ ہو چکا ہے۔ ان کا ایک بیٹا جو ایمان نہیں لایا تھا)‘ نیز انہیں جو ایمان لائے ہیں اور نہیں ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر بہت تھوڑے۔‘‘ کشتی کے رواں دواں چلتے جانے اور پسر نوحؑ کے ہلاک ہونے کا نقشہ ایسے انداز میں کھینچا کہ کہیں اس کی مثال نہیں ملے گی۔
’’42… وہ بولا…ابھی میں پہاڑ پر چڑھ جائوں گا وہ مجھے پانی سے بچا لیگا۔
’’نوح نے کہا…آج اللہ (تعالیٰ) کے امر (عذاب) سے کوئی بچانے والا نہیں‘ مگر جس پر وہ (خود ہی) رحم فرمائے۔ (اسی دوران) ان دونوں کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی اور وہ غرق ہوگیا۔‘‘ ہلاک ہونیوالے ہلاک ہوگئے۔ بچنے والے بچا لئے گئے۔ طوفان تھم گیا کشتی جودی پہاڑی کی چوٹی پر جا لگی۔ یہ پہاڑ موجودہ ترکی میں ہے۔ کہتے ہیں وہ کشتی اب بھی اس پہاڑ پربرف کے اندر محفوظ موجود ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter