تازہ ترین:

سورہ الرعد…(۱)

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 1 اپریل ، 2011
اس سورہ کی خاص بات بعض سادہ اور عام فہم مگر بلیغ اور دل میں اترجانے والی مثالیں ہیں جو امید و خوف‘ غیر اللہ کو پکارنے اور حق و باطل کے بارہ میں ہیں۔ زیادہ تر بیان اللہ تعالیٰ کی شان کا ہے اور وہ بھی جلالی رنگ میں۔
آیہ 11 میں اقوام کے متعلق اپنا اصول بیان فرمایا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حالات نہیں بدلتے‘ جب تک وہ (اس قوم کے افراد) اپنے آپ کو نہ بدلیں‘‘۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
(اقبال)
سورہ کا آغاز اللہ تعالیٰ کی شان کے بیان سے ہوتا ہے کہ اس نے کیسے کائنات تخلیق فرمائی۔ پھر زمین کو حیات کے قابل بنایا۔ پھر یہاں نباتات‘ حیوانات اور اس کے بعد ذی عقل انسان پیدا کیا۔ اس سے ظاہر ہے انسانی زندگی عبث اور بے مقصد نہیں بلکہ موت کے بعد انسانی زندگی کے مراحل ہیں‘ جن کا دارو مدار انسان کے بیان کئے گئے اعمال پر ہے۔
-2’’اللہ (تعالیٰ) وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا۔ جیسا کہ تم انہیں دیکھتے ہو (الاتعداد اجرام سماوی بغیر کسی سہارے کے فضا میں موجود ہیں اور مقررہ راستوں پر گردش کر رہے ہیں)
’’پھر وہ تخت حکومت پر متمکن ہوا۔ (کائنات کا انتظام سنبھالااور اسے چلانے کے قوانین مقرر کردیئے جنہیں ہم فزیکل لاز کہتے ہیں)
’’اور اس نے شمس و قمر کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک مدت معین کیلئے چلتا ہے (یعنی ہر ایک کی گردش کا وقت مقرر ہے)
’’وہی (اللہ تعالیٰ) ہرکام کی تدبیر کرتا ہے‘‘۔
’’وہ اپنی آیات واضح طور پر بیان فرماتا ہے تاکہ تم اس سے ملاقات پر (یعنی قیامت کے روز اس کے سامنے حاضر ہونے پر) یقین رکھو‘‘۔ (آیہ ختم)
اگلی آیت میں تخلیق کے دوسرے مرحلہ کا بیان ہے جس کا تعلق ہماری زمین سے ہے۔ زمین سورج سے الگ ہوئی تو تپتی ہوئی گرم تھی۔ پھر آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی اور اس میں پہاڑ اور وادیاں وجود میں آئی۔ پھر یہاں روئیدگی پیدا ہوئی جو پھلوں تک پہنچی اور پھلوں کی مختلف اقسام وجود میں آئیں۔
-3 ’’اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا دیا (مسطح کردیا) اور اس میں پہاڑ اور ندیاں بنادیں۔ نیز اس میں ہر پھل کے دو قسم کے جوڑے بنائے۔ ترش‘ شیریں۔ بڑے‘ چھوٹے…(یہاں) رات دن کو ڈھانپ لیتی۔ اس میں بلاشبہ غور و فکر کرنے والوں لوگوں کیلئے واقعی آیات ہیں‘‘۔ (آیہ ختم)
اسی طرح یہاں بار بار باطل کی تاریکی حق کو ڈھانپ لیتی ہے۔ اسی لئے پیغمبروں اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں کی ضرورت پڑتی رہی اور اب آخر میں ہمارے حضورؐ پرنور نے روشن آفتاب کی صورت میں طلوع ہو کر تاریکیوں کے پردے ہمیشہ کیلئے چاک کردیئے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter