عدالتی فیصلے کے سیاسی اثرات
ـ 31 جنوری ، 2010
پروفیسر محمد یوسف عرفان
این آر او پر عدالتی فیصلہ انتظامی صفائی کی پہلی برسات ہے جس سے سیاسی زمین میں جل تھل بھی ہو گا اور ہلچل بھی مچے گی۔ فیصلہ اہم بھی ہے۔ ہنگامہ خیز بھی اور سیاسی منظر پر دوررس نتائج کا حامل بھی۔ اس پر عملدرآمد ہو گا یا نہیں اگر عملدرآمد ہوا تو پاکستان کے تمام ادارے آئین کی بالادستی کیلئے باہم معاون ہوں گے اور اگر عملدرآمد نہ ہوا تو ہر ادارہ باہم تصادم کا شکار ہو جائے گا اور عدالت قوت نافذہ سے محروم ہونے کے باعث مہمل اور مضحکہ خیز بن جائے گی۔
این آر او‘ پی پی پی کی قیادت اور حکومت کا امتحان ہے ۔ اگر حکومت عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتی ہے تو زد پی پی پی کی قیادت بالخصوص پی پی پی کے چیئرمین اور صدر پاکستان آصف علی زرداری پر پڑتی ہے۔ اگر عملدرآمد نہیں ہوتا تو حکومت زد میں آتی ہے اور جا بھی سکتی ہے۔ القصہ این آر او دو دھاری تلوار ہے جو پی پی پی کے لئے اس کے وار اور کاٹ سے بچنا آسان نہیں جبکہ مسلم لیگ ن اور ق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے خواہاں ہیں۔ زرداری عدالتی فیصلے کی اہمیت اور اثرات سے بخوبی واقف ہیں اور اسی لئے کہا کہ ن لیگ دوستانہ اپوزیشن نہیں حریف ہے۔ جس نے لانگ مارچ وغیرہ کے ذریعے معزول چیف جسٹس کو بحال کرایا جو اب زرداری اور پی پی پی کی حکومت کے گلے کا پھندا بن گیا ہے۔ گو وزیراعظم گیلانی نے فیصلے پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر دئیے ہیں اور اعلان بھی کیا ہے کہ زرداری صدر پاکستان ہونے کے باعث مستثنٰی ہیں۔
زرداری کے پاس دو راستے ہیں اور بدقسمتی سے دونوں منفی ہیں۔ پہلا راستہ دشمن کی نشاندہی کر کے محاذ آرائی کا کھیل ہے جس کو شریف برادران نے بکمال احسن ٹال دیا۔ گو شہباز شریف اور چودھری نثار زرداری کے دام میں پھنسنے لگے تھے مگر بچ گئے اور معاملہ ٹل گیا۔ اس کھیل کے مثبت ترین کھلاڑی محمد نوازشریف ہیں جنہوں نے آزاد عدلیہ کی بحالی‘ آئین کی بالادستی اور جمہوری نظام کے تسلسل کیلئے سب کچھ قربان کر رکھا ہے۔ محمد نوازشریف کا کردار اچھا ہے مگر سیاست میں نظریاتی دوست اور دشمن کی شناخت کے معاملے میں ناقص ہے۔ زرداری پنجاب حکومت کو عدم استحکام کا نشانہ بنائیں گے مگر چودھری شجاعت حسین ذاتی یا نظریاتی تحفظات کے باعث پنجاب اور مرکز میں پی پی پی کا حصہ نہیں بنتے ہیں۔ گو وزیراعظم گیلانی نے چودھری شجاعت سے ملاقات بھی کی ہے اور تعاون بھی طلب کیا ہے جبکہ پنجاب میں ق لیگ کے فارورڈ بلاک سے چودھری شجاعت حسین متاثر بھی ہیں مگر انہوں نے ن لیگ کے خلاف پی پی پی کا حصہ بننے سے ماضی میں انکار کیا اور شاید تاحال کریں۔ جبکہ چودھری پرویز الٰہی کی خواہشات نے انہیں پریشان کر رکھا ہے جن کو چودھری شجاعت حسین تھام لیتے ہیں۔ زرداری کے پاس دوسرا راستہ حیلے بہانے سے عدالتی فیصلے کے نفاذ میں تاویل اور تاخیر ہے اور اس امر میں زرداری کے پاس کئی ترکیبیں ہیں اور وہ وقت پڑنے پر ہر ترکیب اپنائیں گے۔ پہلی ترکیب صدر کے استثنٰی کی قانونی چارہ جوئی ہے۔ دوسری ترکیب انتہا پسند اور متشددانہ سیاسی محاذ آرائی ہے۔ جو ملک کیلئے مہلک اور خونیں بھی ہو سکتی اور تیسری ترکیب حکومت کی تبدیلی ہے۔ اگر گیلانی عدالت کے سامنے عاجز ہو گئے تو مرکزی حکومت بدل سکتی ہے اور یہ تبدیلی پارلیمان کے اندر جمہوری اور سیاسی عمل سے لائی جا سکتی ہے اور اس طرح انتظامی تبدیلی عدالتی فیصلے کے نفاذ میں التوا اور تاخیر کا باعث بن جائے گی۔ آئندہ سیاسی دوست اور دشمن جنم لیں گے۔ سیاسی صف بندیاں ہوں گی۔ ممکنہ محاذ آرائی کا نشانہ شریف برادران اور ن لیگ ہو گی۔ مسلم لیگ ن کو نئے سیاسی حلیف اور معاون تلاش کرنا ہوں گے جس میں مختلف مسلم لیگوں کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے اور جس کی جانب جناب مجید نظامی صاحب نے بخوبی اشارہ دیا ہے کہ منتشر مسلم لیگوں کا اتحاد ہونا چاہئے اور ملک کے اندر دو جماعتی نظام ہونا چاہئے تاکہ جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی نظریہ ضرورت کے تحت جماعتوں میں فارورڈ بلاک بنائے جائیں۔ مسلم لیگ نظریاتی پارٹی ہے جو نظریاتی ریاست پاکستان کے قیام کا باعث بنی ہے۔ ملک میں نظریاتی اعتبار سے دو جماعتی نظام ہے۔ جو مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کے باعث انتشار کا شکار ہے۔ حکومت اور حکومتی پارٹیوں کو نظریاتی مزاحمت کی ضرورت ہے جو شریف اور چودھری برادران کی ذاتی تنگ دلی کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ جبکہ حکومتی پارٹیوں بشمول ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت این آر او کی زد میں آتی ہے اور انہیں مسلم لیگ کی دھڑے بندیوں سے فائدہ ہے اور اس طرح نظریاتی ریاست میں نظریاتی نظام اور مزاحمت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاسی مجبوری پی پی پی ہے جو نظریاتی حلیف بھی ہیں اور این آر او کے متاثرین بھی شامل ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں