تازہ ترین:

یہ طرز تکلم یہ لب و لہجہ… استغفراللہ

عطاء الرحمن ـ 31 دسمبر ، 2010
قرآن مجید کی ایک آیت کریمہ کا مفہوم ہے تم کسی کے جھوٹے خدا کو بھی برا نہ کہو مبادا وہ تمہارے سچے رب کی برائی کر ڈالے۔ اس ارشاد باری میں انسانوں کے درمیان اختلاف رائے کی حدود متعین کی گئی ہیں۔ اسے تہذیب و شائستگی کے دائرے کے اندر رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے اگر کوئی جھوٹے خدا کی بھی پوجا کرتا ہے تو اس کے فکر و عمل کی غلطی اس پر واضح کرو مگر ذاتیات پر نہ اترو۔ مسلمانوں کو سکھائی جانے والی اس تہذیب نے سالوں نہیں صدیوں کے دوران ان کی اصولی بالادستی کو قائم رکھنے اور اسلامی تہذیب کے چراغوں کو روشن رکھنے میں مدد کی ہے۔ آج کے ’’مہذب‘‘ دور میں بھی ہمارے لئے چودہ سو سال پرانی اس ہدایت ابدی کے ساتھ چمٹے رہنے اور سختی کے ساتھ اس کی پیروی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ چہ جائیکہ ہمارے سیاسی رہنما اور خود کو عوام منتخب نمائندہ قرار دینے والے بدکلامی میں اس حد تک نیچے اتر آئیں کہ شائستگی کی تمام حدود پامال کر کے رکھ دی جائیں اور گھروں میں بیٹھی نیک بیبیاں ٹیلی ویژن کی سکرین پر ان جملوں کے تبادلے کا تماشا دیکھ کر چہروں پر کپڑا اور کانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔ گذشتہ روز قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خاں اور ایم کیو ایم کے دو رہنمائوں حیدر عباس رضوی اور وسیم اختر کے درمیان پیدا ہونے والی بدمزگی اور تلخ کلامی نے جو صورت پیدا کر دی وہ کسی معنی میں بھی انسانیت کا بھرم رکھنے والوں اور ایک مسلمان قوم کے نمائندوں کے شایان شان نہ تھی۔ انہیں سن کر ہر شخص کا سر شرم سے جھک گیا۔
سوال یہ ہے اس کی نوبت کیوں آنے دی گئی۔ قائد مسلم لیگ (ن) میاں نوازشریف نے مظفرآباد میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم کے کردار کے حوالے سے اصولی اعتراضات اٹھائے تھے۔ 12 مئی 2007ء کو کراچی میں ہونے والے وحشیانہ قتل عام کاذکر کیا تھا۔ الطاف حسین کے سخت ردعمل اور مناظرے کے چیلنج (جسے قبول کر لیا گیا) باوجود بات کو وہیں رہنے دیا جاتا تو مناسب ہوتا… الطاف حسین اور ان کی جماعت پر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا الزام نوازشریف نے پہلی مرتبہ نہیں لگایا۔ 12 مئی کے فوراً بعد پاکستان کا پورا میڈیا اس پر متفق علیہ تھا۔ عمران خان نے اسے بار بار دہرایا یہاں تک کہ مقدمہ انگلستان لے گئے۔ جماعت اسلامی جو کراچی میں خاصا عوامی اثر و رسوخ رکھتی ہے ایم کیو ایم سے انہی اسباب کی بنا پر نالاں ہے اس کے اپنے درجنوں کارکنوں کی زندگیاں اس طرز سیاست کی نذر ہو چکی ہیں۔ اب 13 دسمبر کو ایم کیو ایم کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے گذشتہ چند مہینوں کے دوران کراچی میں جاری رہنے والی دہشت گردی اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے بارے میں جو دستاویزی ثبوت پیش کیا ہے اور کہا ہے 60 گرفتار شدگان میں سے 26 کا تعلق اس تنظیم سے ہے تو پھر شک و شبے کی کون سی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ ایم کیو ایم ذوالفقار مرزا کے بیان کی قطعی تردید بھی نہیں کر سکی۔
اس سب کے باوجود اگر اختلافات سے اظہار کو ذاتی حدود کے اندر داخل نہ ہونے دیا جاتا تو سیاسی رہنمائوں اور ان کی جماعتوں کی صحت کے لئے بہت مفید ہوتا۔ قائد تحریک پر یہ ناقابل تردید الزام کم ہے کہ وہ غیر ملک میں مقیم ہیں وہاں کے باقاعدہ شہری ہیں۔ دوسری ریاست کی وفاداری کا کھلم کھلا حلف اٹھا کر مملکت پاکستان کے سیاسی میدان کے کھلاڑی بھی بنے ہوئے ہیں جس کی دنیا کا کوئی قانون یا اخلاقی ضابطہ اجازت نہیں دیتا۔ چودھری نثار نے ان حقائق کو واشگاف کرتے ہوئے اُن کی ذات کے بارے میں جو بات کہہ دی اس سے پرہیز بہتر تھا۔ ردعمل میں دوسری جانب سے وہ لب و لہجہ اختیار کیا گیا کہ استغفراللہ! نوازشریف اور الطاف حسین دونوں نے اچھا کیا ہے اپنے اپنے کارکنوں کو مزید الجھنے سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔ پاکستان کی سیاست تقاضا کرتی ہے کہ قومی معاملات کے حوالے سے حقائق بھی سامنے آتے رہیں اور اس کے ساتھ تہذیب و شائستگی اور خوش کلامی کی حدود کی بھی پوری طرح پاسداری کی جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں