کیا ہے؟ کیا نہیں ہے؟
خالد احمد ـ 31 اگست ، 2010
خالد احمد .......
کیا آپ ہماری بات سمجھ رہے ہیں؟ کیا آپ ہماری بات سے متفق بھی ہیں؟ یہ دو مختلف سوال ہیں! آپ ہماری بات سمجھ رہے ہیں مگر کچھ تحفظات کی بناءپر آپ ہم سے اتفاق کرنے سے گریز کررہے ہیں! یا، آپ ہماری بات مکمل ہونے پر کچھ سوال اٹھانا چاہتے ہیں اور ہماری بات مکمل ہونے کا انتظار کررہے ہیں! لیکن ہماری بات مکمل ہو کر ہی نہیں دے رہی کہ ہماری زبان دانتوں تلے رہنا جانتی ہی نہیں۔ یہ بہت سے سوال اور بہت سے خدشات و تحفظات ہمیں گھیرے ہیں اور ہمارے دفتر سے جناب امتیاز تارڑ کی خوبصورت آواز ہمیں بار بار جناب ”سفیر حقانی“ کی یاد دلاتی چلی جا رہی ہے۔
کیا آپ ہماری بات سن بھی رہے ہیں؟ یہ ہے وہ بنیادی سوال جس سے ہم نے آج کی تحریر کا آغاز کرنا تھا۔ مگر جناب سفیر سے ہم یہ تو پوچھنا ہی بھول گئے تھے! حق تو یہ ہے کہ امریکہ پہلی بار ہماری بات سمجھ رہا ہے کیونکہ ہم اپنی بات پھولی پھولی اکھڑی اکھڑی سانسوں کے ساتھ نہیں بلکہ ہموار اور پرسکون انداز میں کررہے ہیں! ابھی اتفاق کی صورت محض یوں پیدا نہیں ہوتی کہ پاکستانی ”تزویراتی حکمت عملی“ کے خدوخال اور امریکی دانش مندوں پر واضح نہیں ہوسکے اور وہ اس علاقے کیلئے اپنی وضع کردہ ”تزویراتی حکمت عملی“ اور پاکستان کی اپنی ”تزویراتی حکمت عملی“ کے درمیان ”مطابقت“ نہیں پا رہے۔ جناب پرویز مشرف تو صرف ”ہاں“ کہنے کے عادی تھے مگر اب امریکی، پاکستانی اور نیٹو افواج کے درمیان براہ راست عملی واسطہ پڑنے کے بعد امریکی اور نیٹو دفاعی ماہرین پاکستان کے دفاعی ماہرین کی آراءبہت احترام کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں!
بات تھی تو صرف اتنی کہ آپ ہماری بات سن رہے ہیں؟ یا، نہیں؟ گزشتہ روز ہم نے ایک محفل میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی ”گراں گوشی“ کا تذکرہ کیا؟ کہا کہ ابھی تک ہاہا کار مچی ہے کہ پاکستانی پیپلز پارٹی کی کسی قیادت میں یہ ”گوشی“ کون سے پہلو میں جلوہ افروز اور حجلہ بدوش رہتی ہے؟ حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کے دانشور قائدین بھی ایک دوسرے پر ”شک کی نگاہ“ کے ساتھ ذرا ”جڑ“ کر بیٹھنے لگے ہیں کہ کیا خبر یہ ”گراں کاشے“ نظر نہ آتے تو کم از کم ”محسوس“ تو کی جاسکے!
اس وقت امریکہ میں صرف 5298 پاکستانی طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ امریکہ میں اس وقت بھارتی طلبہ کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار سے زائد ہے اور یہ سب لوگ ”امریکی وظائف“ پر اپنی قوم کیلئے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق 25 ہزار پاکستانی طلبہ نے ”سٹوڈنٹ ویزا“ کیلئے درخواست دی اور امریکی سفارتخانے نے ایک بھی ”ویزا درخواست“ رد نہیں کی۔
امریکہ میں ہزاروں لوگ ہوں گے جنہیں پاکستانی ایکسپرٹ کہا جاسکتا ہے؟ ہمارے ملک میں کتنے ”امریکہ ایکسپرٹ“ ہیں؟ کیا امریکہ، امریکی عوام اور امریکہ کے مفادات کو سمجھنا؟ کوئی بری بات ہے؟ ہم ملک کے معاملات پر بات کرنے کیلئے اس ملک میں متعین سابق سفیر کے سوا کسی دوسرے آدمی سے رابطہ ہی نہیں کر پاتے! کہ بقول جون ایلیا یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں۔ (جاری)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں