مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ
ـ 30 ستمبر ، 2009
کرنل (ر) اکرام اللہ
صدر مملکت کے دورہ نیو یارک - پاکستان کے دوست ممالک کی سربراہی کانفرنس کی امریکہ کے صدر اور برطانیہ کے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ صدارت - اسی روز کیری لوگر بل کی امریکی سینٹ میں منظوری اور پاکستان کو دی جانے والی موجودہ امداد کو اگلے پانچ سال کے دوران تین گنا بڑھا دیے جانے کے وعدہ کی خوش خبری موسم بہار کے جھونکوں کی مہک فضاءمیں بکھیر رہی تھی کہ اچانک ڈیڑھ کروڑ ڈالر سالانہ اور پانچ سالوں میں ساڑھے سات کروڑ ڈالر کی امریکی امداد کو اس خاکسار نے بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ بالعموم اور فرانس بالخصوص کو خصوصی امدادی پیکج "مارشل پلان "سے تشبہ دے ڈالی، اسی سوچ میں ڈوبا تھا کہ مغربی معاشرہ تو کسی کو مفت میں چائے کی پیالی تک نہیں پوچھتا یہ ساڑھے سات کروڑ ڈالر کی امداد چے معنی دارد؟ دوسرے ہی روز اس امداد کی شرائط سامنے آگئیں جنھیں پڑھ کر پوری قوم کے ساتھ میں بھی سکتہ میں آگیا اور بہار کے مصنوعی جھونکے خزاں کی پت جھڑ میں تبدیل ہوگئے اور اچانک اقبال کا یہ شعر میری زبان پر آگیا
کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے
میں اسی سوچ میں تھا کہ آج صبح دو خبروں نے مزید پریشان کر دیا۔ نیشنل اور پرووینشل اسمبلیوں کی خالی سیٹوں کے لئے ضمنی انتخابات کے سلسلہ میں جب کہ امیدواروں نے کاغذات متعلقہ الیکشن اتھارٹی سے حاصل کر لئے ہیں لیکن دہشت گردی اور نقص امن کے خطرہ کے باعث اور چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل صوبائی حکومت سے مشاورت نہ کرنے کے باعث پنجاب حکومت نے ضمنی الیکشن رکوانے کے لئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے ۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا! ایک اور خبر سے میں سکتہ میں آگیا ہوں، فاٹا کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر منیر اورکزئی نے گزشتہ شام اعلان کیاہے کہ ان کے علاوہ وفاقی وزیر برائے ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی وفاقی وزیر برائے زکوة و عُشر نور الحق اور وزیر مملکت برائے کشمیر امور عبدالرازق کے استعفے وزیراعظم کے حوالے کردیے گئے ہیں اور اگر ان کے مطالبات جن میں گورنر سرحد کے برطرفی پہلا مطالبہ ہے فوری طور پر منظور نہ کیے گئے تو فاٹا کے پانچ سینیٹرز اور سات ارکان قومی اسمبلی بھی استعفیٰ دے دےں گے جن کے استعفے ان کے پارلیمانی لیڈر کے پاس موجود ہیں ۔ ان کے مطالبات اور دیگر تفصیلات اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں ۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامہ اور بالخصوص وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتوں کے لئے یہ خبر ایک زلزلہ کی حیثیت رکھتی ہے کیوں کہ پاکستان کی پوری تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ فاٹا کے تمام ممبران نے حکومتِ وقت کے خلاف اس انداز میں اتنی سنگین دھمکی دی ہو۔ فی الحال یہ معاملہ صدر مملکت کی وطن واپسی تک وزیراعظم نے التواءمیں ڈال دیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بحران ٹل گیا ہے بلکہ میں تو یوں کہوں گا کہ فاٹا جو پہلے ہی ایک بحرانی کیفیت میں ہے اس میں پارلیمانی سطح پر مزید سیاسی پیچیدگیوں کا اضافہ ہو گیا ہے ، دوسرے الفاظ میں مشہور برطانوی شاعر اور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپئر کے مطابق فاٹا کے ممبران قومی اسمبلی و سینٹ اس خونی پس منظر میں اپنے لئے"Pound of flesh'' طلب کرنے کے در پہ ہیں ۔ پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے بلوچستان کے حالات پہلے ہی ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ، فاٹا کے ممبران اسمبلی نے اس میں مزید اضافہ کر دیاہے ، اللہ خیر کرے! اس وقت سوائے علامہ اقبال کے اس شعر کو دہرانے کے علاوہ میں کچھ اور کہنے کے اپنے آپ کو قابل نہیں پاتا۔
مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں