ترپ کا پتا

سعد اللہ شاہ ـ 30 اگست ، 2010
ریاست کا کھیل بھی عجیب کھیل ہے کہ جس میں صحیح چال چلنے والا ہار جایا کرتا ہے۔ ویسے اس میں اپنی چال سے زیادہ ستاروں کی چال کا عمل دخل ہے۔ وہی ستارے جو آسمان سے زمین پر ٹوٹتے ہیں۔ قیامت کی ایک ایسی ہی چال الطاف حسین بھی چلے ہیں کہ جو سیدھی نہیں مگر اتنی الٹی بھی نہیں۔ صاحبانِ ولایت کے لیے ان کے اس بیان میں کوئی ابہام نہیںکہ کرپٹ جاگیر دار اور وڈیروں کے خلاف محب وطن جرنیل اقدام کریں۔ یہ سیدھا سادا مارشل لاءکے لیے دعوتِ خاص ہے۔ معلوم نہیں وہ بھٹک گئے ہیں یا سیدھی راہ پر آگئے ہیں تاہم ”مقطع میں آ پڑی ہے بات سخن گسترانہ بات“
جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے
ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے
الطاف حسین نے اس سے قطع نظر کہ کس کی شہ پر یہ بیان داغا ہے‘ سیاست کے میدان میں تھرتھلی ڈال دی ہے۔ ویسے یہ رنگ میں بھنگ ڈالنے اور بنا بنایا کھیل بگاڑنے کے مترادف ہے۔ پنجابی میں اسے ’روندی مارنا‘ کہتے ہیں۔ یہ کوئی شرافت نہیں کہ تاریخی سیلاب کے باعث اربوں روپے آنے کو ہیں اور حکومت کا کتنا تعمیری کام ابھی باقی ہے کہ آپ مارشل لاءکو بلا رہے ہیں۔ بھئی ابھی زرداری صاحب کے دو اڑھائی سال باقی ہیں اور نواز شریف نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے کہ وہ دل پر پتھر رکھ کر اور سینے پہ مونگ دلوا کر ایک ایک منٹ گن رہے ہیں اور ان کا دور ابھی دو اڑھائی سال کے فاصلے پر ہے۔ الطاف بھائی کے بیان میں سپورٹس مین سپرٹ کا فقدان ہے۔
ویسے اس بیان کو دیوانے کی بڑھ ہرگز نہ سمجھیں۔ اس بیان کے ساتھ امریکہ کے مبصر کا بیان بھی چھپا ہے کہ سیلابی صورت حال کی ابتری کے باعث فوج کنٹرول سنبھال سکتی ہے اور الطاف صاحب نے اپنا بیان امریکہ کے ایلچی سے ملاقات کے دو دن بعد دیا تھا۔ عمران خان جو ایم کیو ایم پر لندن میں کیس کرنے کی باتیں کرتے تھے اس کے بیان کی تائید فرما رہے ہیں۔ اے خدا یہ سب کیا ہے ”بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے“۔ اس وقت ن لیگ انگاروں پر لوٹ رہی ہے اور سیخ پا ہے تحریک استحقاق پیش ہوگئی ہے۔ متحدہ نے بھی جواب آں غزل کے طور پر نواز شریف کے خلاف فوج کے ساتھ معاہدے کو خفیہ رکھنے پر تحریک استحقاق پیش کی۔ الزام تراشی کا میدان لگ چکا ہے اگرچہ دونوں کے الزامات کافی حد تک درست ہیں مگر پھر بھی اس وقت غیر مہذب لگ رہے ہیں۔
اس ضمن میں افسوس ناک امریہ ہے کہ فوج کے وقار کو نقصان پہنچ رہا ہے کہ موجودہ سیلاب کی بربادی میں جس طرح فوج کے جوانوں نے صبح و مسا اپنی جانوں پر کھیل کر لوگوں کو بچایا ہے اور انہیں سامان ضرورت پہنچایا ہے‘ ایک عظیم کارنامہ ہے۔ عوام ان کی خدمات کو نہایت قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ فوج ایک مرتبہ پھر اپنا مورال بلند کرنے اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ الطاف حسین صاحب اسے دوبارہ سیاست میں گھسیٹ کر انہیں کو مشکلات میں نہ ڈالیں۔ اصل میں الطاف صاحب دانستہ یا غیر دانستہ وہی کچھ کر رہے ہیں جو اس وقت امریکہ کی ضرورت ہے۔
اگر سیاست دانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر بہت بربادی ہوگی۔ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ خدانہ کرے 12اکتوبر اور3نومبر کا اعادہ ہو۔ اب کوئی جج پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھائے گا لیکن ایسا تو نہیں کہ الطاف صاحب وہی پرویز مشرف کا دور چاہتے ہیں جس میں 12مئی 2007ءکو چیف جسٹس کا کراچی میں داخلہ ممنوع قرار پایا تھا اور کراچی سیل کرکے پچاس بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ یا وہ زمانہ جب چار وکلاءکو زندہ جلا دیا گیا اور اس کو آمر عوامی طاقت کہہ کر اسلام آباد میں ق لیگ کے رہنماﺅں کے ساتھ بھنگڑے ڈالتا رہا۔ اس سے بھی پیشتر سنی قیادت کو بم سے اڑا دیا گیا تھا۔ ویسے محب وطن جنرل کی اصطلاح بھی خوب ہے۔ کوئی محب وطن جنرل مارشل لاءنہیں لگا سکتا اور اگر وہ لگاتا ہے تو وہ محب وطن نہیں ہوتا کہ مارشل لاءکبھی بھی جمہوریت کا نعم البدل نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں مارشل لاءادوار سانحات سے بھرے ہوئے ہیں۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ یہ انتہا پسند تنظیمیں بھی مارشل لاءدور کی پیداوار ہیں۔ ویسے مارشل لاءاور دادا گیری میں کوئی فرق نہیں۔ ۱۔ کسی بھی سیاست دان کے پاس فخر کرنے کو کچھ نہیں اور اگر کسی کے پاس ہے تو اسے ابھی حکومت میں آنے کا موقع نہیں ملا۔ ۲۔ جب غرض فرض پر غالب آ جاتی ہے تو پھر انسان برباد ہو جاتا ہے۔ ۳۔ خواہش صبر کا پیمانہ لبریز کر دے تو دانائی ختم ہو جاتی ہے۔ ۴۔ جو دوسروں سے عبرت نہیں پکڑتا باعثِ عبرت ہوتا ہے۔ ۵۔ پھول بونے والوں کو بھی کانٹے چبھتے ہیں مگر ان میں لذت ہوتی ہے مگر کانٹے بونے والے پھولوں کی مہک نہیں پا سکتے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
بہرحال سیاست کا کھیل ہے بڑا عجیب کہ صحیح چال چلنے والا ہی ہارتا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں