گورنر ہائوس میں جمہوریت کے استحکام کا جذبہ

سعید آسی ـ 30 اگست ، 2009
جناب اب ہی سنبھل جائیں۔ اگر سب کو یہ احساس ہورہا ہے کہ اس موقع پر جبکہ حکمران پیپلز پارٹی بھی کونوں کھدروں میں جھانک کر بچ نکلنے کا راستہ تلاش کرتے کرتے اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ماورائے آئین اقتدار کا خناس دل میں پالنے والے طالع آزما جرنیلوں کا راستہ روکے بغیر جمہوریت کو محفوظ و مستحکم نہیں کیا جاسکتا‘ جب ایم کیو ایم (متحدہ) بھی آئین کی دفعہ 6 کے تحت مشرف کے ٹرائل پر آمادہ ہے اور جب مشرف کی تخلیق کردہ مسلم لیگ (ق و ہمخیال) کو بھی جمہوریت کے استحکام کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے یک رائے ہونے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو پھر ممکنہ طالع آزمائوں کی شکل میں اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں جاری کھسر پھسر کو بھانپ کر جمہوریت کو بچانے کی خاطر اپنی صفوں میں کیوں اتحاد و اتفاق پیدا نہیں کرلیا جاتا۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے موجودہ مکدر ہونے والی سیاسی فضا میں گزشتہ روز قومی سلامتی اور جمہوریت کے نام پر گورنر ہائوس میں حکومتی اور سیاسی اتحادی‘ ہم خیال اور حریف جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو ایک ساتھ مدعو کرکے جمہوریت کے استحکام کی خاطر باہمی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی اور اپنی افتتاحی تقریر میں خود بھی فلسفہ جمہوریت کو اجاگر کرتے ہوئے سیاسی رواداری اور اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اگرچہ اس اجتماع پر پیپلز پارٹی کا جیالا کلچر حاوی تھا اس لئے بالخصوص جناب مجید نظامی‘ گورنر سرحد اویس غنی اور ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی وسیم اختر کو اپنی تقاریر سے پہلے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ زندہ ہے بی بی زندہ ہے اور اک زرداری‘ سب پر بھاری کے جوشیلے نعروں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مسلم لیگ (ق) کے سنیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے ڈائس پر آنے پر پیپلز پارٹی کے سینئر کارکن ڈاکٹر ضیاء اللہ بنگش نے یہ کہہ کر تقریب سے احتجاجاً واک آئوٹ بھی کیا کہ جمہوریت کو دفن کرنے والے جرنیلی آمر مشرف کے ساتھی کو یہاں مدعو کرکے جمہوریت کو بچانے کی بات کیسے کی جاسکتی ہے۔ پھر بھی مجموعی طور پر جمہوریت کے تحفظ و استحکام کے حوالے سے اس تقریب کا تاثر مثبت اور خوشگوار اور کامیاب رہا۔
سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جو درس اس تقریب میں ملا‘ کیا ہی اچھا ہو اس پر گورنر ہائوس کی جانب سے ہی پیشرفت کی جائے اور گورنر سلمان تاثیر بانہیں پھیلا کر اور سینہ کشادہ کرکے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کا استقبال کریں اور پھر اسی جذبے کے تحت میاں شہبازشریف اپنے برادر بزرگ میاں نوازشریف کو آمادہ و قائل کرکے صدر آصف علی زرداری کی طرح گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو بھی جاتی عمرہ (رائے ونڈ) میں افطار پارٹی پر مدعو کرلیں۔ جناب مجید نظامی نے بھی اس تقریب میں شریف برادران کو یہی باور کرایا ہے کہ جب وہ جمہوریت اور سسٹم کو بچانے کی خاطر پیپلز پارٹی کی حکومت کو غیرمستحکم نہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور پنجاب میں انکی وزارت میں پیپلز پارٹی کے وزیر بھی ہیں تو انہوں نے وفاقی حکومت سے اپنے وزراء کو نکلوانے کی حمایت کیوں کی ہے۔ میرے عزیز ہم وطنو کا نعرہ لگا کر قومی سیاست میں دخل درمعقولات کرنے اور جمہوریت کی بساط لپٹینے والے طالع آزمائوں کا آئندہ کیلئے مستقل طور پر راستہ روکنے کی خاطر اگر سیاستدان باہمی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کئے رکھنے کا جذبہ پیدا کرلیں تو جمہوریت کو بچانے اور منتخب جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کا محفوظ راستہ نکل سکتا ہے۔ جناب مجید نظامی کا پیرانہ سالی میں بھی اس وطن عزیز کو بانیان پاکستان قائد و اقبال کی امنگوں کے مطابق اسلامی جمہوری فلاحی معاشرے میں تبدیل کرنے کا جذبہ قابل داد اور قابل تقلید ہے۔
مجھے اس تقریب میں خوشگوار حیرت ایم کیو ایم کے وسیم اختر کی تقریر پر ہوئی جنہوں نے اس وطن عزیز میں گزشتہ 62 سال سے عام آدمی کو وسائل سے محروم کرنے‘ اس کیلئے انصاف کے دروازے بند کرنے اور جمہوری نظام کے ساتھ وابستہ اسکی امنگوں کا گلا گھونٹنے کے عمل میں اپنی ذات سمیت حکومتی سیاسی قیادتوں کو مورد الزام ٹھہرانے سے بھی گریز نہ کیا۔ وہ اس تقریب میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی نمائندگی کررہے تھے مگر فی الحقیقت وہ پسے ہوئے محروم طبقات اور عام آدمی کے نمائندے نظر آئے۔ موجودہ پرآشوب سیاسی ماحول میں اپنا کتھارسس کرنے کیلئے ایسے اجتماعات کا اہتمام ہوتا رہے تو جمہوریت کے استحکام کیلئے قومی سیاسی اتفاق رائے کی فضا بن سکتی ہے۔
٭٭٭
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں