تازہ ترین:

علامہ مشرقی کی برسی پر لمحۂ فکریہ کانفرنس کا انعقاد

علامہ چوہدری اصغر علی کوثر وڑائچ ـ 30 اگست ، 2009
برصغیر میں خاکسار تحریک کے بانی علامہ عنایت اللہ خاں المشرقی کی 46 ویں برسی 27 اگست 2009ء کو خاکسار تحریک کے زیراہتمام منائی گئی اور اس سلسلے میں شاہراہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے دہانے پر ایستادہ پْرشکوہ الحمرا آرٹ سنٹر کے ہال نمبر 3 میں ’’لمحۂ فکر کانفرنس‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب بھی منعقد کی گئی جس کی صدارت کے فرائض خاکسار تحریک کے موجودہ سربراہ حمید الدین المشرقی نے ادا کئے۔ اس وقت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان ایڈووکیٹ اور بلوچستان کے سردار محمد اکبر بگٹی کے پوتے نوابزادہ شاہ زین بگٹی بھی موجود تھے جبکہ دیگر مقررین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما رانا اکرام ربّانی، استقلال پارٹی کے منظور علی گیلانی، شیعہ رہنما علامہ منور عباس علوی، اے این پی کے سہیل اختر ملک، پیر شفاعت رسول، حسیب قیصر، مدنی بلوچ، پیر شفاعت رسول، ظفر جمال بلوچ اور مارٹن جاوید مائیکل بھی شامل تھے، علامہ مشرقی کی برسی کو جوش و جذبہ کے ساتھ منانے کے لئے پورے پاکستان سے خاکسار وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ اس موقع پر خاکساروں کا بیلچہ بردار جیش بھی موجود تھا۔ خاکسار تحریک نے علامہ مشرقی کی برسی پروگرام تو علی الصبح ہی کر دیا تھا جبکہ ان کی روح کو ایصالِ ثواب کے لئے قرآن خوانی کی گئی، اس تحریک کے ہراول جیش نے اپنے لیڈر کے مرقد پر حاضر ہو کر سلامی دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ پڑھی، علامہ مشرقی 25 اگست 1888ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے، وہ شہر اب پنجاب کے اس ٹکڑے میں شامل ہے جو قیام پاکستان کے وقت ہندو اور انگریز کی سازش کے نتیجے میں بھارت کے قبضے میں آ گیا تھا، 27 اگست 1963ء کو انہوں نے لاہور میں وفات پائی اور ذیلدار روڈ اچھرہ کی اس عمارت کے ایک حصّے میں مدفون ہیں جس میں موجودہ خاکسار تحریک کا دفتر ہے۔ حمید الدین المشرقی نے جو علامہ عنایت اللہ المشرقی کے چھوٹے صاحبزادے ہیں اس
کانفرنس کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں بتایا کہ علامہ مشرقی پورے ہندوستان کے پہلے طالب علم تھے جنہوں نے صرف 18 سال کی عمر میں 1906ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے ریاضی میں اوّل پوزیشن حاصل کی بلکہ اس یونیورسٹی میں ان کا قائم کردہ ریکارڈ آج تک کوئی نہیں توڑ سکا، وہ برصغیر کے مسلم طالب علم تھے جنہوں نے 1912-13 میں کیمبرج یونیورسٹی سے تین ٹرائی پوز آنرز یعنی رینگلر سکالر، بیچلر سکالر اور فاؤنڈیشن سکالر کی صورت میں معہ وظائف اعلیٰ پوزیشن حاصل کی، ان اعلیٰ تعلیمی اعزازات کو اس یونیورسٹی کی گذشتہ 8 سو سالہ تاریخ میں کوئی اور طالب علم حاصل نہ کر سکا نہ ہی آج تک علامہ مشرقی کے تعلیمی ریکار کو کوئی اور توڑ سکا ہے۔ اپنے تعلیمی اعزازات کے باعث علامہ مشرقی پاکستان کی ہر تازہ نسل کے لئے تعلیمی و علمی سربلندی کے حصول کے باب میں ایک قابل رشک اور قابل تقلید شخصیت ہیں چنانچہ آج تمام مقررین نے علامہ مشرقی کو دلی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے علمی، تعلیمی اور تصنیفی کارناموں کو نمایاں کرنے پر زور دیا، ان کی زندگی کا اصل مشن وہ تھا کہ اخوت کی وادی میں پورے عالم کے مسلمان متحد ہو جاتے اور ہر طرح کے تفرقات سے بالا ہو کر ایک اْمت مسلمہ کے طور پر اپنی زندگی بسر کرتے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے زبان و قلم کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے پوری طاقت سے استعمال کیا جس دور میں علامہ مشرقی اپنے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کر دینے کے لئے پورے برصغیر میں اپنی تنظیمی صلاحیت کا لوہا بھی منوا رہے تھے اسی دور میں مسلمانانِ ہندوستان کے بطلِ جلیل حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت میں مسلمانانِ برصغیر کے منتشر شیرازے کو مجتمع کر کے ہندو اور انگریز کی ریشہ دوانیوں کو شکست دے کر پاکستان قائم کر دینے کے لئے اپنی فقید المثال تاریخی جدوجہد کر رہے تھے، اس وقت انہیں ہر مسلمان قوت کے مخلصانہ تعاون کی بھرپور ضرورت تھی، علامہ مشرقی بھی پاکستان جیسا سب سے بڑا اسلامی ملک قائم کر دینے کے فقید المثال مشن میں قائداعظم کی تقویت کا باعث بن سکتے تھے۔ انہوں نے جناب قائداعظم سے ملاقات بھی کی مگر وہ کانفرنس نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی اور پاکستان قائم کر دینے کی تگ و دو میں جنابِ قائداعظم کو علامہ مشرقی کا سیاسی تعاون حاصل نہ ہو سکا، اگر وہ صورت ہو جاتی اور پھر تحریک احرار، یونینسٹ پارٹی، جمعیت العلمائے ہند، صوبہ سرحد کے سرخپوش یعنی عبدالغفار خان اور ڈاکٹر خان صاحب اور صوبہ سندھ کے جی ایم سید بھی جنابِ قائداعظم کا مخلصانہ ساتھ دیتے تو عین ممکن تھا کہ وہ پاکستان وجود میں آ جاتا جس کا تصور جناب قائداعظم جیسے عالی دماغ مدبّر اور سٹیٹسمین کو اتنی عظیم جدوجہد جاری رکھنے پر مجبور کئے ہوئے تھا، بہرحال اس کانفرنس میں علامہ مشرقی کی اس معرکہ آرائی کا ذکر بھی کیا گیا جو قرآن مجید کی تعلیمات و ہدایات کے ابلاغ کے باب میں بذریعہ قلم انہوں نے سر انجام دی، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ علامہ مشرقی ایک یگانۂ روزگار دماغ تھے اور لمحۂ فکریہ کانفرنس کے مقررین نے نہایت کشادہ قلبی سے اس حقیقت کا اعتراف کیا مگر اصل بات وہ ہے کہ علامہ مشرقی نے تعلیمی میدان میں جو ناقابل شکست ریکارڈ قائم کئے ان سے پاکستان کے ہر تعلیمی ادارے کے ذریعے طلباء و طالبات کو آگاہ کیا جائے اور ان کے اندر حصول تعلیم کا وہی اشتیاق اور تعلیمی کامیابیوں کے لئے وہی قوت مقابلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جو علامہ مشرقی کی عظیم کامیابیوں کا سبب بنی ہوئی تھی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں