شہ رَگ کا حصول: قائد اعظم کا پاکستان بنانے کا عزم: نظریہ پاکستان کانفرنس

ـ 23 فروری ، 2012
محمد صادق جرال
اس موقع پر جب امریکہ نے بلوچستان کے حوالہ سے نیا محاذ کھولا ہے اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ امریکہ کی بلوچستان پر نظر کرم ایسے ہی نہیں وہ اپنی پریشانیوں میں پاکستان کا اعلانیہ دشمن بن گیا ہے امریکہ کا ٹارگٹ افغانستان نہیں پاکستان تھا بلوچستان کو کافی عرصہ سے ٹارگٹ بنا رکھا تھا اس سے قبل اس کے بعض اداروں نے اس حوالہ سے نقشے بھی جاری کئے جس میں بلوچستان کو علیحدہ ملک دکھایا گیا۔ یہ باتیں بھی میڈیا کے ذریعہ پھیلائی جا رہی تھیں کہ 2020ءتک خدانخواستہ پاکستان نہیں رہے گا بھارت میں بعض دانشور تو تقریبات میں بلوچستان کو ملک کا درجہ دینے لگے ہیں کشمیریوں کیلئے حیران کن بات ہے کہ جس مسئلہ کیلئے اقوام متحدہ نے حق خود ارادیت دینے کی ایک درجن سے زائد قرار دادیں پاس کیں اس پر امریکہ بھارت کو عمل کرنے کیلئے نہیں کہتا جہاں سات لاکھ فوج انسانیت کو قتل کر رہی ہے بھارت کشمیر سمیت دیگر ریا ستوں میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے جو سلوک کر رہا ہے خود امریکہ نے افغانستان اور عراق میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر دیا۔ ان کے حقوق کاکیا بنا، اس نازک موقع پر پاکستان کے دل لاہور شہر میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن معروف صحافی نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی کی قیادت میں سہ روزہ کانفرنس کا انعقاد گھٹن کے ماحول میں ہوا کا تازہ جھونکا ہے۔ مجید نظامی کی قیادت میں نظریہ پا کستان ٹرسٹ نئی نسل اساتذہ، طالب علموں کیلئے تربیت گاہ ہے پاکستان اس وقت اپنی زندگی کے بدترین سیاسی معاشی گروہی اور سماجی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ طاغوتی طاقتوں امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے شیطانی اتحاد نے پاکستان کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ وہ اس کی سلامتی اور خود مختاری کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان مکار دشمنوں اور اپنی نالائقی کی وجہ سے ہم آدھا پاکستان کھو چکے ہیں مزید سازشوں کا شکار ہیں جذبہ جہاد سے سرشار پاک فوج اپنے لوگوں کے سامنے کھڑی ہے بحیثیت قوم ہم کو اپنے طرز عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہم بانیان پاکستان کی تعلیمات کے خلاف جا رہے ہیں اس مشکل گھڑی میں مجید نظامی کی قیادت میں سہ روزہ نظریہ پاکستان کانفرنس کا انعقاد جس میں تمام مکاتب فکر کے افراد نے شرکت ، کانفرنس سے پاکستان کے چاروں صوبوں آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے مندوبین مبصرین دانشوروں راہنماﺅں کے خیالات سے استفادہ کیا گیا مجید نظامی نے شرکاءسے حلف لیا کہ پاکستان کی اساس نظریہ پاکستان کی سالمیت استحکام اور علامہ اقبال کے فکر اور قائد اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کو اسلامی تجربہ گاہ بنانے کا عہد تھا۔ آزاد جموں و کشمیر شہ رَگ پاکستا ن کے صدر سردار یعقوب نے کانفرنس میں اپنے خطاب میں مجید نظامی کو کانفرنس پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں کانفرنس کا انعقاد ایسی سوچ و فکر رکھنے والے لوگوں کی موجودگی میں پاکستان کو پریشانی نہیں ہے۔ مجید نظامی جیسے لوگ ہمارا قیمتی سرمایہ ہیںانہوں نے آزاد کشمیر میں کام کرنے کی دعوت اور تعاون کا یقین دلایا۔ سردار یعقوب نے کہا کہ مسئلہ کشمیر میں کشمیری فریق ہیں ان کی موجودگی کے بغیر کوئی فیصلہ تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے کشمیر کو بوجھ سمجھنے والے غلطی پر ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے قیام پاکستان ے پہلے اور بعد قربانیاں دیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے لیکن کشمیریوں نے اپنے بزرگوں کی قبروں کو پانی میں ڈبو کر دوبار منگلا ڈیم بنوایا کشمیریوں نے 1947ءمیں پاکستان بننے سے پہلے اس سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا شہ رگ پاکستان کے حصول کیلئے آخری کشمیری بھی قربان ہو گا بھارت دہشت گرد ملک کیسے سلامتی کونسل کا مستقل رکن بن سکتا ہے حکومت پاکستان تعاون کرے تو بیس ہزار میگاواٹ بجلی آزادکشمیر میں پیدا کر سکتے ہیں جس سے پاکستان ترقی کر سکتا ہے چیئر مین نظریہ پاکستان ٹرسٹ مجید نظامی نے کہا کہ کشمیری ہماری لیے بوجھ نہیں ہیں۔ میں نے خود 1947ءکے جہاد میںحصہ لیا اور مجاہدین کو راشن پہنچاتے رہے اگر انگریز کمانڈر گریسی قائد اعظم کا حکم مان لیتا تو کشمیری مجاہدین قبائل کے تعاون سے سرینگر پہنچ چکے ہوتے اور کہا کہ آزاد کشمیر بیس کیمپ تھا لیکن بیس کیمپ نہ بن سکا اس کو آزادی کا بیس کیمپ بنائیں، اس کے ذریعے کشمیر آزاد ہو اور پاکستان کا حصہ بنے پاکستان کا روٹی کپڑا کشمیر کے پانیوں سے چلتا ہے۔ 1947ءکے بعد میں خود بھی پہلکام گیا تھا کشمیر سے مجھے جذباتی لگاﺅ ہے ۔ میری بیوی کا تعلق بھی کشمیر شوپیاں سے تھا انہوں نے کہا کہ میری وارننگ ہے اگر آپ نے کشمیر حاصل نہ کیا تو پندرہ سال کے اندر بھارت پاکستان کو بنجر بنا دے گا۔ ہماری حکومت کو بھارت کی سازشوں سے ہوشیار رہنا ہو گا۔ ہمارے صدر وزیر اعظم فوج کے کمانڈر جنگ کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا میرا پیغام علامہ اقبا ل کی فکر اور قائد اعظم کے وژن پر عمل کرنا اور دو قومی نظریہ/ نظریہ پاکستان پر عمل کرنے میں ہما ری حکومت فوج اور عوام ہم سب کی بقا سلامتی اور پاکستان کی ترقی ہے ہر گھر میں نظریاتی لام بندی کی جائے۔ یہ پیغام ہر ایک تک پہنچایا جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں