صدر آصف زرداری ہیرو یا ........؟
محمد آصف بھلّی ـ 22 جنوری ، 2010
حکمران کسی بھی سطح کا ہو صوبہ یا وفاق کا، اس کے کسی قول اور عمل کی تعریف کرتے ہوئے ہمیشہ یہ حدیث رسول میرے پیش نظر رہی”جس وقت تم کسی کو بے جا تعریف کرتے ہوئے دیکھو تو اس کے منہ میں مٹی جھونک دو“ یعنی بے جا تعریف کسی بھی طور مستحسن بات نہیں اور اگر کسی فاسق کی تعریف کردی جائے وہ فاسق حکمران ہو یا عام شخص تو یہ فعل اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس لےے اللہ تعالیٰ ہم سب صحافیوں کو کسی ظالم اور جابر حکمران کی بے جا تعریف سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ اس تمہید کی ضرورت مجھے یوں پیش آئی ہے کہ آج ایک طویل عرصہ کے بعد مجھے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا یہ بیان پڑھ کر بے پناہ خوشی ہوئی ہے کہ اگر صدرآصف زرداری اور ان کے ساتھی استعفیٰ دینے پر تیار ہو جائیں تو وہ بھی پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے مستعفی ہو کر عدالت سے رجوع کرنے کے لےے تیار ہیں۔ شہبازشریف نے یہ بھی پیش کش کی ہے کہ صدر آصف زرداری اپنی مرضی کا بنچ بنوا لیں اگر اس بنچ سے میرے یا میرے خاندان کے خلاف کوئی فیصلہ آیا تو وہ سیاست سے دستبردار ہو کر ہمیشہ کے لےے گوشہ¿ نشین ہو جائیں گے۔ صدر آصف زرداری وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے اس بیان پر کسی مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہیں یا نہیں اور اپنے عہدہ سے مستعفی ہو کر عدالت سے رجوع کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ اس سے متعلق ہم کوئی پیشن گوئی نہیں کر سکتے۔ لیکن شہبازشریف کی جرا¿ت مندانہ پیش کش کی تحسین کےے بغیر ہم نہیں رہ سکتے۔ پاکستان میں سب سے بڑی دو سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہی تسلیم کی جاتی ہیں۔ ایک پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری ہیں جو اس وقت ملک کے صدر بھی ہیں اور دوسری جماعت کے لیڈر نوازشریف اور شہبازشریف ہیں۔ یہی دونوں پارٹیاں بار بار برسراقتدار بھی رہی ہیں اور اس وقت بھی مرکز میں اقتدار پیپلزپارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ ہیں۔ اگر صدر آصف زرداری بھی جرا¿ت سے کام لیتے ہوئے شہبازشریف کی پیش کش قبول کر لیں اور دونوں قائدین عدالتوں سے رجوع کر لیں تو یہ ان کی طرف سے قوم کے لےے ایک تحفہ ہوگا۔ جس سیاست دان نے بھی قومی سرمایہ لوٹا ہے اگر وہ قومی سیاست سے باہر نکل جائے اور قوم کو اس کا لوٹا ہوا سرمایہ واپس مل جائے تو اس سے زیادہ خوش قسمتی ہماری قوم کی اور کیا ہوسکتی ہے۔ اگر صدر آصف زرداری پر بھی الزامات غلط ہیں تو انہیں عدالتوں سے رجوع کرنے سے قطعاً خوف زدہ نہیں ہونا چاہےے۔ وفاقی وزیر قانون بابراعوان نے کہا ہے کہ صدر آصف زرداری کی بیٹی آصفہ اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ کا ازسرنو ٹرائل چاہتی ہےں کیونکہ پیپلزپارٹی کے نزدیک یہ جوڈیشل قتل تھا۔ اگر آصف زرداری اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے لےے ان کی وفات کے بعد بھی انصاف کی طلب گار ہیں اور اس حوالے سے انہیں موجودہ اعلیٰ عدالتوں پر اعتماد ہے تو پھر صدر آصف زرداری کو بھی اپنے خلاف مقدمات کی سماعت کے لےے موجودہ اعلیٰ عدالتوں پر اعتماد کرنا چاہےے اور ظاہر ہے اس کے لےے انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ ویسے بھی ایک روز صدر آصف زرداری کے دور صدارت کو ختم ہونا ہی ہے۔ اس صورت میں انہیں عدالتوں کا سامنا کرنا ہی ہوگا۔ تاہم اگر وہ شہبازشریف کی پیش کش قبول کرتے ہوئے ازخود اپنا صدارتی عہدہ چھوڑ کر عدالت سے رجوع کرنے کے لےے تیار ہوجاتے ہیں تو یہ ایک تاریخ واقعہ ہوگا اور عدالتوں میں اگر ان کے خلاف کرپشن اور دیگر الزامات ثابت نہ ہوئے تو وہ ایک تاریخ ساز سیاست دان کے طور پر ابھر کر سامنے آجائیں گے۔ یہ فیصلہ اب صدر آصف زرداری کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا نام ایک ہیرو کے طور پر محفوظ کروانا چاہتے ہیں یا اپنے لےے ولن کا کردار منتخب کرتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں