عرفان شیخ، ایس آر او 821 اور بجلی کا بحران
محمد مصدق ـ 22 فروری ، 2012
حکومت کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے تاجر اور صنعت کار میں ایک بار پھر احتجاج کے کنارے پر آگئے ہیں۔ اگر حکومت سنیٹرز کو خریدنے پر 36 کروڑ خرچ کی جگہ تیل کمپنیوں اور IPPs میں اتنی رقم خرچ کر دیتی تو یقیناً بجلی کی لوڈ شیڈنگ آدھی سے بھی کم رہ جاتی لیکن حکومت کا منشور ہے ”اشرفیاں لٹیں اور کوئلوں پر مہر“!!
ایک روز پہلے ممتاز تاجر لیڈر عرفان اقبال شیخ کی زیر صدارت لاہور کی مختلف مارکیٹوں کے عہدیداروں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تازہ ترین مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ اگر حکومت نے تاجر اور صنعت برادری کے مطالبات کو اہمیت نہ دی اور مسائل کو حل کرنے کی طرف ٹھوس پیشرفت نہ کی تو پھر مجبوراً ”سنگین بحران“ سے بچنے کیلئے تاجر برادری کو اپنی طاقت کا اظہار کرنا پڑے گا۔
عرفان شیخ نے بتایا کہ ہمارے پاس بجلی ضرورت سے بھی زیادہ موجود ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت نے غلط حکمت عملی کو اپنایا ہوا ہے اور فوری طور پر وسائل ہوتے ہوئے بھی تیل کمپنیوں کے گردشی قرضوں میں کمی کی کوئی مثبت کوشش نہیں کی جا رہی۔ دوسری طرف IPPs (انڈیپینڈنٹ پاور سپلائر) کے واجبات بھی ادا کرنے کی توجہ نہیں دی جا رہی جبکہ حکومت آسانی سے اس مسئلہ کو حل کر سکتی ہے۔ اگر حکومت اپنے لئے بنکوں سے قرض لے سکتی ہے یا زیادہ کرنسی نوٹ شائع کر سکتی ہے تو ایک بار پرائیویٹ مالیاتی اداروں اور کرنسی چھاپ کر بجلی کے بحران کو یکلخت ختم کیا جا سکتا ہے۔
اس لئے حکومت سے درخواست ہے کہ وہ تاجر برادری کے مطالبات کو سنجیدگی سے حل کرے اور آخری قدم اٹھانے پر مجبور نہ کرے۔ اسی طرح ایس آر او 821 کا مسئلہ بھی حل طلب پڑا ہوا ہے۔ اس بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نئے چیئرمین کا رویہ حوصلہ افزاءہے اور ہمیں یقین ہے کہ آئندہ چند روز میں ایس آر او 821 واپس لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔ تجارتی سرگرمیاں پہلے ہی محدود ہیں لیکن رہی سہی کسر مذکورہ ایس آر او نے پوری کر دی ہے اس لئے تاجروں کا پیمانہ صبر لبریز ہونے سے پہلے دونوں مسائل حل کر دیئے جائیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں