تیل ٹرانسپورٹروں کا جھگڑا بحران پیدا کر سکتا ہے

محمد مصدق ـ 21 فروری ، 2012
ٹرانسپورٹروں میں سے این ایل سی اور پرائیویٹ آئل ٹینکرز کے مالکوں کے درمیان جھگڑا تو پہلے سے موجود تھا لیکن چند روز پہلے یہ اس وقت سنگین صورت حال اختیار کر گیا جب دونوں پارٹیوں کے ڈرائیوروں نے توں توں میں میں میں اضافے کے بعد قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے مخالف فریق کے تیل اور گھی سے بھرے ہوئے ٹینکروں کو سرعام آگ لگا دی اور امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے والے مزے سے ہاتھ تاپنے لگے۔ سارا معاملہ کیا ہے اور اس کا پس منظر کیا ہے۔ نیز مستقبل پر اس ہڑتال کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس مقصد کیلئے گھی ایسوسی ایشن کے سابقہ عہدیدار صوفی تنویر احمد اور موجودہ نائب چیئرمین صوفی طارق احمد سے بات چیت ہوئی۔صوفی تنویر احمد نے بتایا پورے پاکستان کی تیل امپورٹ کرنے والی کمپنیاں اپنا تیل کراچی ہاربر پر بطور امانت رکھتی ہیں اور این ایل سی کے ساتھ ان کا معاہدہ ہے اور این ایل سی کے ٹرک ایک تسلسل سے تیل گھی کارخانوں تک پہنچاتے رہتے ہیں اور کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے۔ کچھ گھی فیکٹریاں پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بھی استعمال کرتی ہیں لیکن اس سسٹم میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ راستے میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خوردنی تیل چوری کر لیا جاتا ہے۔ جب پرائیویٹ آئل ٹینکر سے تیل وزن کر کے اتارا جاتا ہے تو اس کا وزن پورا نہیں ہوتا۔ اس صورتحال نے تمام تیل اور گھی کمپنیوں کو مجبور کر دیا کہ وہ این ایل سی کے ساتھ معاہدہ کر لیں چنانچہ سب سے معاہدہ کر لیا جس کا پرائیویٹ سیکٹر کے ٹرانسپورٹرز نے برا منایا اور رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں این ایل سی سندھ ہائیکورٹ میں چلی گئی اور ہائیکورٹ جا کر فیصلہ این ایل سی کے حق میں ہوا۔ اس پر اصولاً اور قانوناً عمل درآمد ہونا چاہئے تھا لیکن پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز نے کسی کی شہ پر پھڈا ڈال دیا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے این ایل سی کے خوردنی تیل بردار ٹینکوں کو آگ کے شعلے دکھا دیئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا وجود ثابت نہ کیا۔ اب شریف لوگ احتجاج کے علاوہ کیا کر سکتا ہے اسلئے آئل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے تب تک پورے پاکستان میں خوردنی تیل اور گھی کے کارخانے ہڑتال جاری رکھیں گے۔یقیناً اگر حکومت نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے این ایل سی کے آئل ٹینکرز کو حفاظت کی گارنٹی نہ دی تو ہڑتال لمبی ہونے کی صورت میں نہ صرف مارکیٹ سے تیل اور گھی ختم ہو جائے گا بلکہ قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور اس طرح ایک نیا بحران پیدا ہو جائے گا جو حکومت کیلئے اچھا ثابت نہیں ہو گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں