سلطان کی خَیر ہو

سعید آسی ـ 20 جون ، 2009
پیپلز پارٹی کی صدارتی ترجمان فوزیہ وہاب کو شائد اسی لئے وزیراعظم کا بااختیار ہونا بھلا معلوم نہیں ہو رہا اور وہ سر عام اپنی اس تحکمانہ خواہش کا اظہار کر رہی ہیں کہ وزیراعظم کے پاس زیادہ اختیارات نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ وزیراعظم تو فی الواقع پارلیمانی جمہوریت کی ترجمانی کرتے ہوئے سربراہ حکومت والے پورے آئینی اختیارات استعمال کر رہے ہیں جس سے صدر مملکت کی ہی نہیں، ان کے غیر منتخب مشیروں کی حیثیت بھی کم ہورہی ہے۔ فوزیہ وہاب کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کوان کی’’حیثیت‘‘ کا احساس دلانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہوگی کہ انہوں نے وفاقی بجٹ میں غیر منتخب مشیرخزانہ شوکت ترین کے سی این جی پر عائد کردہ کاربن ٹیکس کی شکل میں جگا ٹیکس کو ختم کرنے اور پٹرولیم مصنوعات پر بھی اس ٹیکس پر نظرثانی کا حکم دے کر بالانشینوں کے گھونسلے میں چونچ ماری ہے اور ان کے براہ راست اور بالواسطہ کمشنوں پر لات مارنے کی کوشش کی ہے۔
یہ غیر منتخب مشیر تو اتنے ’’ڈاہڈے‘‘ ہیں کہ کہیں سے کوئی ہلکی سی بھی چھینک آئے جس سے انہیں زکام لگنے کا اندیشہ ہو تو وہ جھٹ سے مستعفی ہونے کی دھمکی دے ڈالتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ عالمی مارکیٹ کے نرخوں کے حساب سے کم کرنے کا حکم دیا شوکت ترین کے ماتھے پر واشنگٹن میں بیٹھے بیٹھے بل پڑ گیا اور وہیں سے انہوں نے مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی۔ صدر آصف علی زرداری بھی اس وقت وہیں پر موجود تھے۔ نہ جانے انہوں نے شوکت ترین سے استعفے کا فیصلہ واپس لینے کیلئے کتنی منت سماجت کی ہوگی کہ اس سے مفادات باہمی پر زیادہ چوٹ لگنے کا خدشہ تھا۔ چنانچہ شوکت ترین نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ واپس لیا اور سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اپنا غصہ ڈیزل، پٹرول، سی این جی پر کاربن ٹیکس عائد کرکے نکال لیا۔ یہ کاربن ٹیکس مجھے اب کسی سیانے نے بتایا ہے کہ ماحولیات کی آلودگی کا باعث بننے والی اشیاء پر لگایا جاتا ہے۔ یہ مغرب کی اصطلاح ہے مگر وہاں یہ ٹیکس لگانے کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آتی کہ وہاں کوئی چیز ماحولیات کی آلودگی کا باعث بنتی ہی نہیں۔ یہاں تو کوئی اینٹ بھی اکھاڑو تو وہ ماحول کو خراب کرنے کا باعث بن جائے گی چنانچہ مغرب کی وہ ساری اصطلاحات جو وہاں سوٹ نہیں کرتیں، یہاں مستعمل ہو جاتی ہیں۔ کئی اصطلاحات تو انہوں نے صرف ہمارے لئے ایجاد کی ہیں جیسے اسلامسٹ، پاکی، طالبانائزیشن وغیرہ وغیرہ۔ ایک اصطلاح ’’بلیم گیم‘‘ کے تو بہت چرچے رہے ہیں۔ شوکت ترین بھی واشنگٹن میںبیٹھ کر ہماری تضحیک کا پہلو نکالنے والی مغربی اصطلاحات سے بہت متاثر ہوئے اور ان کی ناقابل عمل اصطلاح کاربن ٹیکس کو اندھیر نگری مچانے کیلئے یہاں لے آئے۔ پوچھا گیا کہ بھلا سی این جی ماحولیات کی آلودگی کا کیسے باعث بنتی ہے۔ جواب آیا، سی این جی والے کوئی آسمان سے اترے ہیں کہ ان پر ٹیکس نہ لگایا جائے، بھائی ضرور ٹیکس لگائو مگر اقتدار کے ایوانوں اور اسمبلی، پارلیمنٹ میں بیٹھے جو لوگ سیاسی ماحول کی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں، پہلے ان پر بھی تو ٹیکس لگائو، انہیں سوجھتی ہے تو زرعی ٹیکس لگانے کی اور پھر وہ تڑی بھی لگاتے ہیں:’’میں حکومت میں رہا تو زرعی ٹیکس ضرور لگے گا ورنہ میں مستعفی ہو جائوں گا۔‘‘ انہیں مستعفی کیوں نہیں ہونے دیا جاتا۔…ع
غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
وزیراعظم ان کے ٹیکسوں والے جنون کے آگے روڑے اٹکا رہے ہیں تو کم از کم انہیں مستعفی ہو نے کا شوق تو پورا کرنے دیا جائے،ان کے اس شوق کی تکمیل کیلئے میں بھی ان کا سفارشی ہوں۔چاہے مجھ پر اقرباء پروری کا الزام لگا دیں مگر ایک بار ہمارے لاڈلے غیر منتخب مشیر خزانہ کا مستعفی ہونے کا شوق ضرور پورا کردیں ورنہ وزیراعظم ان کے ٹیکسوں کے جنون کے آگے بند باندھتے باندھتے، منتخب جمہوری نظام کی نیاّ ڈبو بیٹھیں گے۔ اسی لئے تو فوزیہ وہاب پیش بندی کرتے ہوئے نیک و بد حضور کو سمجھاتی جا رہی ہیں۔ ایوان صدر کو دستوری سلطانی ٔ جمہور کی نہیں، ماورائے آئین غیر منتخب مشیروں کی ضرورت ہے جو جگاٹائیپ ٹیکسوں کے راستے کمیشن کھرا کئے رکھتے ہیں۔ یہ کمیشن چلتا رہنا چاہئے، بے شک ملک چلے نہ چلے، جمہور زندہ رہے یا نہ رہے، بس سلطان کی خیر ہو…؎
اب تو جینا بھی ہوا دشوار، الٰہی خیر ہو
کس قیامت کے ہیں یہ آثار، الٰہی خیر ہو
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں